اسلام آباد: آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط اور ملکی بجٹ اہداف کے تحت عوام پر عائد ٹیکسوں کے باعث حکومت کے خزانے بھرنے لگے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں کے دوران پیٹرولیم لیوی (PDL) کی مد میں 1,430 بلین (1.43 کھرب) روپے سے زائد کا بھاری سرمایہ اکٹھا کر لیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے کی آمدنی میں ریکارڈ اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
سالانہ ہدف سے زیادہ وصولی کا امکان
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ وصولی سالانہ طے شدہ ہدف کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ حکومت نے پورے سال کے لیے 1,468 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا تھا، جبکہ ابھی مالی سال کا آخری مہینہ باقی ہے۔ انتظامیہ کو توقع ہے کہ جون کے اختتام تک مزید 100 ارب روپے خزانے میں آئیں گے، جس کے بعد کل وصولی مقررہ تخمینوں کو بہت پیچھے چھوڑ دے گی۔
اگر گزشتہ سال کی اسی مدت سے موازنہ کیا جائے، تو موجودہ مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی تقریباً 600 ارب روپے زیادہ ہے، جو عوام کی جیبوں پر ڈالے گئے اضافی بوجھ کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔
پیٹرولیم لیوی کا ماہانہ بریک ڈاؤن

مالی سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس کی ماہانہ وصولی میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
ابتدائی مہینے: جولائی میں 157 ارب روپے جبکہ اگست اور ستمبر میں بالترتیب 103.46 اور 112.85 ارب روپے وصول کیے گئے۔
سردیوں کا آغاز: اکتوبر میں 143.48 ارب اور نومبر میں 148.36 ارب روپے اکٹھے ہوئے۔
ریکارڈ وصولی: دسمبر کے مہینے میں لیوی کی مد میں سب سے زیادہ 162.46 ارب روپے کی ریکارڈ آمدنی ہوئی۔
سال کا آغاز: جنوری میں گراف کم ہو کر 108.76 ارب اور فروری میں 120.39 ارب روپے رہا۔
دوبارہ اضافہ: مارچ میں 139.48 ارب اور اپریل میں 146 ارب روپے اکٹھے ہوئے، جبکہ مئی کے مہینے میں یہ وصولی 87.50 ارب روپے رہی۔
مقامی اور درآمدی ایندھن سے حاصل کردہ آمدن
سرکاری اعداد و شمار کے بریک ڈاؤن سے معلوم ہوتا ہے کہ جولائی سے مئی کے درمیان:
درآمدی پیٹرول اور ڈیزل: غیر ممالک سے منگوائے گئے ایندھن پر لیوی کے ذریعے 686.52 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔
مقامی ریفائنڈ پروڈکٹس: پاکستان کی اپنی ریفائنریوں میں تیار ہونے والے پٹرولیم سے 753.54 ارب روپے کمائے گئے۔
اگر صرف مئی کے مہینے کی بات کی جائے تو درآمدی ایندھن نے قومی خزانے میں 50 ارب روپے، جبکہ مقامی طور پر صاف کیے گئے ایندھن نے تقریباً 37 ارب روپے کا حصہ ڈالا۔
آمدنی میں ریکارڈ اضافے کی وجہ: سرکاری حکام کے مطابق، پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والے محصولات میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ فنانس بل کے تحت منظور کردہ لیوی کی اعلیٰ شرحیں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے سخت وعدے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے کیے گئے سخت انتظامی اقدامات ہیں۔
