آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا 25 واں دن: فری لانسرز کا معاشی قتل، سوشل میڈیا پر #RestoreAKInternet مہم نے زور پکڑ لیا
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ 25 دنوں سے جاری انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور کنیکٹیویٹی کی شدید پابندیوں نے خطے کے ہزاروں فری لانسرز، طلباء اور آن لائن کاروباری طبقے کو شدید معاشی و تعلیمی بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد انٹرنیٹ کی فوری بحالی کے لیے سوشل میڈیا پر ایک بہت بڑی عوامی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حالیہ سیاسی کشیدگی اور احتجاجی لہر کے بعد انتظامیہ کی جانب سے لگائی جانے والی ان طویل پابندیوں کے باعث آزاد کشمیر کے مایہ ناز فری لانسرز، ریموٹ ورکرز اور آئی ٹی پروفیشنلز عالمی مارکیٹ میں اپنے کلائنٹس اور کام سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے آن لائن کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں اور طلباء اپنی تعلیمی سرگرمیاں اور آن لائن کلاسز لینے سے قاصر ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر دہائی دیتے ہوئے کشمیری نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی اپیل جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “آزاد کشمیر کے فری لانسرز معاشی طور پر مر رہے ہیں، خدا کے لیے ہمارے حال پر رحم کیا جائے اور ہماری آواز بنیں”۔
اس معاشی بحران کے خلاف اب عالمی سطح پر ڈیجیٹل مہم کا آغاز کیا گیا ہے جہاں ٹوئٹر (X) اور فیس بک پر #RestoreAKInternet کا ہیش ٹیگ تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ مہم کے منتظمین نے پاکستان اور دنیا بھر کے ڈیجیٹل کمیونٹیز، دوستوں اور آئی ٹی ماہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس مہم کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر ایک پوسٹ اور ہر ایک آواز اس وقت لاکھوں کشمیری نوجوانوں کے روزگار کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ آئی ٹی تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کے نام پر معاشی شریان کو کاٹنا کسی صورت درست نہیں، لہٰذا خطے میں انٹرنیٹ سروسز کو فوری اور بلا تعطل بحال کیا جائے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ پر طویل پابندیاں لگانا درست ہے، یا اس سے فری لانسرز اور معیشت کو ہونے والے ناقابلِ تلافی نقصان کا کوئی متبادل ہونا چاہئے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار

