برطانیہ کا پناہ گزینوں کیلئے نئے قانونی راستوں اور اسپانسر شپ نظام کا اعلان

برطانیہ کا پناہ گزینوں کے لیے نئے قانونی راستوں کا اعلان: کینیڈا کی طرز پر اسپانسر شپ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

لندن: برطانوی حکومت نے رواں سال کے آخر تک جنگ اور ظلم و ستم سے متاثرہ پناہ گزینوں کے لیے نئے، محدود اور محفوظ قانونی راستے متعارف کرانے کا ایک بڑا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت اب جامعات، کاروباری ادارے اور مختلف کمیونٹی تنظیمیں قانونی طور پر پناہ گزینوں کی اسپانسر شپ کر سکیں گی۔

برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق، یہ نیا اور جدید نظام کینیڈا کے مشہور اسپانسر شپ ماڈل سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت برطانیہ کے مستند اور منظور شدہ ادارے یہاں آنے کے خواہشمند پناہ گزینوں کی درخواستوں کی باقاعدہ حمایت اور تصدیق کر سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نئی اسکیم مستقبل میں برطانیہ کے مجموعی نظام کا ایک بنیادی اور مستقل حصہ بن جائے گی، جس میں موجودہ ‘یو کے ری سیٹلمنٹ اسکیم’ کے مقابلے میں کہیں زیادہ گنجائش رکھی گئی ہے۔ برطانیہ کی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اس اہم پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد حقیقی پناہ گزینوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا اور نظام میں موجود ان تمام خامیوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہے جن کا ماضی میں کچھ عناصر کی جانب سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ ہمیشہ سے جنگ اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے فرار ہونے والوں کو پناہ فراہم کرتا رہا ہے، لیکن ملکی عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ پورا نظام مکمل طور پر منصفانہ، منظم اور ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک ہو۔ اسی سلسلے میں حکومت نے انسانی حقوق اور جدید غلامی (Modern Slavery) سے متعلق قوانین کے اطلاق میں بھی اہم اصلاحات کا اعلان کیا ہے تاکہ بے بنیاد یا غیر سنجیدہ پناہ کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ان نئی مجوزہ تبدیلیوں کے تحت سنگین جرائم میں ملوث افراد یا جعلی دستاویزات استعمال کرنے والے غیر ملکی شہری جدید غلامی کے قانون کے تحت کسی بھی تحفظ کے حق دار نہیں ہوں گے۔ سرکاری شیڈول کے مطابق، یونیورسٹی اسپانسر شپ پروگرام کے لیے درخواستوں کا آغاز رواں سال کے آخر میں کر دیا جائے گا جبکہ پہلی آمد 2027ء میں متوقع ہے، اور روزگار پر مبنی پروگرام اگلے سال شروع کیا جائے گا۔ حکومت نے پکے اصول وضع کیے ہیں کہ ان راستوں کے تحت آنے والوں کی تعداد محدود رکھی جائے گی اور تمام درخواست گزاروں کو انتہائی سخت جانچ پڑتال (Vetting) کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ کینیڈا کی طرز پر برطانیہ کا جامعات اور کاروباری اداروں کو پناہ گزینوں کی اسپانسر شپ کا اختیار دینے کا یہ فیصلہ کتنا سودمند ثابت ہوگا؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں