سرگودھا میں ایک اور افسوسناک واقعہ: نوعمر لڑکے سے مبینہ زیادتی، مقدمہ درج

سرگودھا میں ایک اور افسوسناک واقعہ: معصوم منتہا زہرہ کیس کے چند دن بعد نوعمر لڑکے سے مبینہ زیادتی، شہریوں میں شدید غم و غصہ

سرگودھا: پنجاب کے ضلع سرگودھا میں بچوں کے خلاف جرائم کا سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں سات سالہ بچی منتہا زہرہ کے ہولناک واقعے کے چند ہی دن بعد ایک اور انتہائی افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ تھانہ ترکھان والا کی حدود میں ایک دکاندار کی جانب سے 13 سالہ نوعمر لڑکے کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید عوامی غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ 25 جون کو پیش آیا جب 13 سالہ متاثرہ لڑکا ملزم مدثر ولد اسلم کی دکان پر گیا۔ شکایت میں لڑکے کے والد نے موقف اختیار کیا کہ ملزم نے بچے کو زبردستی دکان کے اندر لے جا کر نشانہ بنایا اور شور مچانے سے روکنے کے لیے اس کا منہ زبردستی دبائے رکھا۔ تاہم، بچے کی مزاحمت اور ہنگامے کے باعث آس پاس کے مقامی لوگ دکان کی طرف متوجہ ہو گئے، جنہیں دیکھ کر ملزم مدثر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں اور والد نے اعلیٰ حکام سے ملزم کی فوری گرفتاری اور سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ نیا کیس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرگودھا کے رہائشی ابھی تک ننھی منتہا زہرہ کے وحشیانہ قتل کے صدمے سے باہر نہیں نکل پائے تھے، جسے چند روز قبل ایک گروسری اسٹور کے اندر نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ ضلعی پولیس کے ترجمان خرم کے مطابق، منتہا زہرہ کیس کا مرکزی ملزم بدھ کے روز ایک پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔ اس کیس میں پولیس نے اسٹور کے ملازم سمیت 4 مزید ملزمان کو گرفتار کر رکھا ہے، جنہیں سینئر سول جج چوہدری عمران علی کی عدالت میں پیش کر کے 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان لرزہ خیز واقعات نے والدین میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جنہوں نے پنجاب پولیس کی کارکردگی اور رہائشی علاقوں میں سیکیورٹی پٹرولنگ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ رہائشی علاقوں اور دکانوں میں معصوم بچوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور پولیسنگ کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے حکومت کو کیا فوری اقدامات کرنے چاہئیں؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں