آزاد کشمیر میں بڑی سیاسی ہلچل: دھرنے کے دوران جے اے سی کے سربراہ شوکت نواز میر گرفتار، تحریک جاری رکھنے کا اعلان
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے مرکزی سربراہ شوکت نواز میر کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس ہائی پروفائل گرفتاری کی تصدیق انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کر دی گئی ہے۔
مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) منیر قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ضلعی انتظامیہ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر دھیرکوٹ کے مقام پر ایک مشترکہ کومبنگ آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں شوکت نواز میر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سے خطے میں حالات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں، جبکہ گروپ نے تمام تر حکومتی سختیوں کے باوجود اپنا دھرنا اور احتجاجی مشن جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ جے اے اے سی نے بھی اپنے آفیشل بیان میں میر کی حراست کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ہمراہ ایک اور سرگرم رکن صائب جاوید کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو دھرنے کی جگہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن پولیس نے انہیں احتجاج میں شامل ہونے سے پہلے ہی روک لیا۔
ایکشن کمیٹی نے اپنے الگ بیان میں اصرار کیا ہے کہ دھرنے میں شوکت نواز میر کی موجودگی سے شرکاء کے حوصلے یقیناً بلند ہوتے، لیکن کسی ایک رہنما کی گرفتاری سے یہ عوامی تحریک کمزور نہیں ہوگی۔ گروپ کا کہنا تھا کہ “ایک آواز کو دبایا جا سکتا ہے لیکن حل نہیں کیا جا سکتا، ایک شخص کو قید کیا جا سکتا ہے لیکن تحریک کو نہیں۔” انہوں نے حامیوں سے حوصلہ نہ ہارنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک کسی ایک فرد یا مرکزی ارکان پر منحصر نہیں بلکہ یہ پورے آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق، انصاف اور بہتر مستقبل کی مہم ہے، اس لیے عوام خود اس مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ انتظامیہ نے خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی اور شوکت نواز میر کی اس اچانک گرفتاری کے بعد کیا خطے میں جاری احتجاجی تحریک تھم جائے گی یا مزید شدت اختیار کرے گی؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

