اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری نے اعتراف کیا ہے کہ بجلی کے بل میں فکسڈ چارجز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے تفصارت فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ چارجز کل بل کے تقریباً 3 سے 4 فیصد سے بڑھ کر اب مجموعی بل کے تقریباً 10 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔
کھپت اور فکسڈ چارجز کا اثر
ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ مقررہ لاگت (Fixed Cost) سال بھر میں تو مستقل ہی رہتی ہے، لیکن اس کے اثرات ماہانہ بجلی کی کھپت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ:
زیادہ استعمال کے مہینوں کے دوران، بل میں مقررہ لاگت کا حصہ فیصد کے حساب سے کم دکھائی دیتا ہے۔
کم استعمال کے ادوار (جیسے سردیوں میں) یہ چارجز بل میں زیادہ نمایاں اور واضح ہو جاتے ہیں۔
گھریلو صارفین کے لیے ریلیف اور نیپرا کا ڈیٹا
اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے مختلف زمروں کے صارفین کو ریلیف دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق:
محفوظ زمرے (Protected Category) کے تحت 200 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین نے توانائی کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھی ہے۔
حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کی وجہ سے کچھ مخصوص صارفین کے لیے مجموعی طور پر گھریلو بجلی کے نرخ کم ہوئے ہیں۔
گزشتہ کئی مہینوں کے دوران ملک بھر میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بجلی کی کھپت میں ہونے والے اس اضافے کا تفصیلی ڈیٹا تصدیق کے لیے نیپرا (NEPRA) کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔
وزیر توانائی کا مؤقف: بلنگ کے موجودہ ڈھانچے میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے باوجود، حکومت سبسڈی اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے عام گھریلو صارفین پر سے بوجھ کم کرنے اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔
