اسلام آباد: مسابقتی اپیل ٹربیونل (CAT) نے مشہور گولیوں اسٹریپسلز کی گمراہ کن مارکیٹنگ کے خلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فارماسیوٹیکل کمپنی ‘ریکٹ بینکیزر پاکستان لمیٹڈ’ پر 30 ملین روپے کا بھاری جرمانہ برقرار رکھا ہے۔ ٹربیونل نے واضح کیا ہے کہ کمپنی کے اشتہارات نے صارفین کو یہ غلط تاثر دیا کہ یہ گلے کی خرابی کا باقاعدہ طبی علاج (دوا) ہے، جبکہ حقیقت میں اس کی درجہ بندی صرف ایک کھانے کی شے (Food Product) کے طور پر کی گئی ہے۔
مسابقتی ایکٹ 2010 کی سنگین خلاف ورزی
تفصیلات کے مطابق، یہ کیس ‘ایم ایس اسکوائر ڈسٹری بیوشن اینڈ مارکیٹنگ سسٹم’ کی جانب سے دائر کردہ ایک شکایت پر شروع ہوا تھا۔ شکایت کنندہ نے مؤقف اپنایا تھا کہ برانڈ کی مارکیٹنگ نے ایک اہم قانونی اور ریگولیٹری فرق کو دھندلا کر دیا ہے، اور ایک ایسی مصنوعات کے گرد مصنوعی “طبی چمک” برقرار رکھی ہے جو اب ادویات کے زمرے میں شامل ہی نہیں ہے۔
ٹربیونل نے اپنے جائزے میں پایا کہ کمپنی نے ایسی معلومات پیش کیں جو عام صارفین کو الجھن میں ڈال سکتی ہیں، جو مسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن 10(2)(b) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پیکیجنگ پر ‘نان میڈیکیٹڈ’ لکھنے کی سخت ہدایت
سی سی پی کی مداخلت کے بعد کمپنی کو اپنی مصنوعات کی پیکیجنگ میں بڑی تبدیلیاں کرنی پڑی ہیں۔ اب اسٹریپسلز کی نئی پیکیجنگ اور گولیوں کے پتوں (Blister Strips) کے سامنے والے حصے پر واضح طور پر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں “نان میڈیکیٹڈ” (Non-Medicated) لکھا گیا ہے۔
ٹربیونل نے ریمارکس دیے کہ یہ تبدیلیاں کوئی معمولی کاسمیٹک اپ ڈیٹس نہیں ہیں بلکہ مصنوعات کی حقیقی حیثیت کو عوام کے سامنے لانے کے لیے ایک اہم اصلاح ہے۔
اخبارات میں ہفتہ وار اصلاحی نوٹس جاری کرنے کا حکم
صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے اور مارکیٹ میں پھیلے ابہام کو دور کرنے کے لیے ٹربیونل نے کمپنی کو سخت احکامات جاری کیے ہیں:
کمپنی کو ملک کے کم از کم تین بڑے انگریزی اور اردو اخبارات میں اصلاحی عوامی نوٹس شائع کرنے ہوں گے۔
ان اشتہارات میں واضح طور پر عوام کو بتانا ہوگا کہ اسٹریپسلز اب کوئی دوا نہیں بلکہ صرف ایک غذائی مصنوعات ہے۔
یہ نوٹس صرف ایک بار کے لیے نہیں ہوں گے، بلکہ مکمل تعمیل کو یقینی بنانے تک ہر ہفتے باقاعدگی سے شائع کیے جائیں گے۔
ریگولیٹرز کا اہم پیغام: مسابقتی کمیشن (CCP) نے اس فیصلے کو مارکیٹ کے لیے ایک مضبوط پیغام قرار دیا ہے کہ اشتہارات کے ذریعے قانونی تعریفوں یا صارفین کی سمجھ کو دھندلا نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جو کچھ خرید رہے ہیں، اس کی اصل حقیقت سے پوری طرح باخبر ہوں اور ان کے فیصلوں پر کسی بھی قسم کا مصنوعی “طبی تاثر” اثر انداز نہ ہو۔
