ڈنمارک میں حادثے کا شکار ہونے والے پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر عبداللہ کی المناک موت
بوریوالہ کے ہونہار نوجوان نے یورپ کی سات جامعات تک رسائی حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا
وریوالہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا نوجوان عبداللہ کل تک جیتا جاگتا ذہین ترین پاکستانی طالب علم تھا جس نے دنیا کی سات جامعات تک فخر اور وقار سے رسائی حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ لیکن بدقسمتی سے ڈنمارک کے شہر Roskilde کے قریب پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں محمد عبداللہ اپنی جان کی بازی ہار گیا، جو DTU یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر تھا۔
غربت کے باوجود تعلیم میں غیر معمولی کامیابی
عبداللہ بوریوالہ کے ایک غریب کسان گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ ان کی گھریلو مالی مشکلات اس قدر تھیں کہ بعض اوقات بجلی کا بل ادا کرنا بھی مشکل ہو جاتا تھا، مگر غربت اور مشکلات عبداللہ کے تعلیم حاصل کرنے کے شوق اور بلند حوصلے کو کبھی شکست نہ دے سکیں۔
سکول کے زمانے سے ہی نمایاں نمبر لینے اور پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ ہائی سکول مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ نمبروں کی بنیاد پر چار مختلف کالجز نے اسے اسکالرشپ کی پیشکش کی۔ بالآخر اس نے پنجاب کالج کا انتخاب کیا اور وہاں بھی اپنی شاندار تعلیمی کارکردگی برقرار رکھی۔
UET لاہور سے یورپ کی معروف جامعات تک کا سفر
پنجاب کالج کے بعد UET لاہور سے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے پر عبداللہ کی غیر معمولی ذہانت اور تعلیمی کارکردگی کے اعتراف میں 2022ء میں اسے یورپ کے معروف REMplus-Erasmus Mundus Program کے لیے منتخب کیا گیا۔
اس پروگرام کے تحت اسے Computational Fluid Mechanics، Finite Element Analysis اور Machine Learning جیسے جدید شعبوں میں تحقیق کے مواقع فراہم کیے گئے۔ عبداللہ نے Ireland، Spain، France، Norway، Netherlands، Denmark اور UK کی جامعات میں تعلیمی و تحقیقی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اس کے علاوہ Commonwealth Shared Scholarship اور EMship-Erasmus Mundus Scholarship کے لیے بھی اس کا انتخاب ہوا، جو اس کی غیر معمولی علمی قابلیت کا واضح ثبوت تھا۔
DTU یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اور ملازمت کی پیشکش
تعلیم و تحقیق کے ہر مرحلے پر اسکالرشپ حاصل کرتے ہوئے عبداللہ بالآخر ڈنمارک پہنچا، جہاں وہ DTU یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی اسے ایک پرکشش ملازمت کی پیشکش بھی مل چکی تھی، جو اس کی محنت، ذہانت اور تحقیقی کامیابیوں کا اعتراف تھی۔
والدہ سے گہری وابستگی
عبداللہ ایک سنجیدہ، شریف النفس، محنتی اور مذہبی رجحان رکھنے والا نوجوان تھا۔ وہ اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتا تھا اور اپنی تمام کامیابیوں کو ان کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیتا تھا۔
حادثے کے بعد سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ عبداللہ کی والدہ کو فوری طور پر اس المناک خبر سے آگاہ نہیں کیا جا سکا۔ اہل خانہ اور قریبی افراد اس صدمے کی شدت سے بخوبی واقف ہیں۔ والدہ اپنے بیٹے کی روزانہ کی فون کال کی منتظر ہیں اور بار بار اس کے بارے میں دریافت کر رہی ہیں۔
نماز جنازہ اور تدفین
مرحوم عبداللہ کی نماز جنازہ ڈنمارک میں ادا کر دی گئی ہے جبکہ ان کی میت پاکستان منتقل کر کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کی جائے گی۔
ایک قابل نوجوان کی جدائی
مرحوم عبداللہ کی اچانک وفات اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی ذہانت، صلاحیت، محنت اور عزم اسے کامیابی کی بلند ترین منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن تقدیر کے فیصلے بعض اوقات ایک لمحے میں تمام خواب ادھورے چھوڑ جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم محمد عبداللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
