کشمیر مرا دل ہے مری جان ہے کشمیر – ظفر اقبال نوری کی دل سوز نظم اور موجودہ صورتحال پر اظہارِ خیال

معروف شاعر ظفر اقبال نوری نے کشمیر سے اپنی دیرینہ محبت، موجودہ صورتحال پر اپنے جذبات اور اپنی خوبصورت نظم “کشمیر مرا دل ہے مری جان ہے کشمیر” قارئین کے ساتھ شیئر کی ہے۔

بہت پہلے ایک نظم کہی تھی “کشمیر مرا دل ہے مری جان ہے کشمیر”

کشمیر کی محبت تو شاید میری والدہ نے گھٹی میں پلائی تھی۔ سکول میں اکثر بلیک بورڈ پہ لکھا کرتا تھا “کشمیر بنے گا پاکستان”۔

کشمیر کی موجودہ صورت حال پہ دل بہت رنجیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو فہم و فراست سے معاملات سلجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

نفرت کا یہ بازار نہ یوں گرم ہوا تھا
الفت کا صلہ کس نے بھلا ایسے دیا تھا
ہو بھاڑ میں یہ پاک وطن کس نے کہا تھا
روتا ہے مرا دل یہ مگر پھر بھی کہے گا
کشمیر ہے دل جان تو دل جان رہے گا
کشمیر ہے شہ رگ تو یہ پیمان رہے گا

نفرت میں دہکتے ہوئے الفاظ انگارے
جنّت سی فضاؤں کو جلاتے یہ شرارے
اغیار نے اپنوں میں رویّے یہ ابھارے
روتا ہے مرا دل یہ مگر پھر بھی کہے گا
کشمیر ہے دل جان تو دل جان رہے گا
کشمیر ہے شہ رگ تو یہ پیمان رہے گا

دکھ درد ادھر ہے تو ہے دکھ درد ادھر بھی
اک جسم ہیں اک جان ہیں اک زخمِ جگر بھی
ہاتھوں میں رہے ہاتھ تو کٹ جائے سفر بھی
روتا ہے مرا دل یہ مگر پھر بھی کہے گا
کشمیر ہے دل جان تو دل جان رہے گا
کشمیر ہے شہ رگ تو یہ پیمان رہے گا

اے حضرت بل پاک کی دھرتی کی بہارو
اے سیّدِ ہمدان کے آفاق کے تارو
مل بیٹھ کے کاٹیں گے الم میرے پیارو
روتا ہے مرا دل یہ مگر پھر بھی کہے گا
کشمیر ہے دل جان تو دل جان رہے گا
کشمیر ہے شہ رگ تو یہ پیمان رہے گا

ڈاکٹر ظفر اقبال نوری

اپنا تبصرہ لکھیں