منی پور کا بحران: کیا یہ خطہ واقعی بھارت کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟

نئی دہلی: بھارت کی ریاست منی پور میں مئی 2023 سے جاری نسلی تصادم اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں سوال یہ نہیں رہا کہ یہ تباہی کس نے شروع کی، بلکہ اب سوال یہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں نے اسے اتنے عرصے تک کیوں چلنے دیا؟ اب تک 200 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور دسیوں ہزار لوگ اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بن کر امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

تاریخ کے زخم اور نسلی تقسیم کی جڑیں
اس شدید تنازعے کی جڑیں تاریخ، زمین، شناخت اور باہمی عدم اعتماد میں گہری پیوست ہیں۔ 1949 میں بھارت کے ساتھ انضمام کو آج بھی منی پور کے بہت سے لوگ ایک زخم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دہلی نے ہمیشہ اس شمال مشرقی خطے کو صرف ایک سیکیورٹی لینس سے دیکھا ہے، جس کی وجہ سے یہاں عسکریت پسندی اور انسدادِ بغاوت کے ایسے داغ پڑے جو کبھی ٹھیک نہ ہو سکے۔

آج کا تشدد اسی ٹوٹی ہوئی زمین پر کھڑا ہے:

امپھال وادی: منی پور کا سیاسی مرکز ہے جہاں ‘میتی’ (Meitei) برادری کا غلبہ ہے۔

پہاڑی علاقے: جہاں ‘کوکی زو’ (Kuki-Zo) اور ناگا کمیونٹیز آباد ہیں۔

زمین، قبائلی حیثیت، جنگلاتی حقوق اور سیاسی کنٹرول پر دہائیوں پرانے تنازعات مئی 2023 میں اس وقت ایک وحشیانہ شکل اختیار کر گئے جب کوکی خواتین کو سرعام برہنہ پریڈ کروانے کی وائل ویڈیو نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

کیا منی پور واقعی بھارت کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ “کنٹرول” کسے سمجھتے ہیں۔ اگر بات فوج، آئین اور سیاسی مشینری کی ہو، تو سیکیورٹی فورسز کے ذریعے نقشے پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اخلاقی اور نفسیاتی طور پر منی پور بھارت کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے۔

بحران کی سب سے تلخ حقیقت: ریاستیں صرف نقشوں کے ذریعے نہیں کھوئی جاتیں، وہ اس وقت کھو جاتی ہیں جب شہری یہ ماننا چھوڑ دیں کہ حکومت انہیں برابر کا انسان سمجھتی ہے۔ جب لوگ پولیس سے زیادہ مسلح گروہوں پر بھروسہ کرنے لگیں اور جب امدادی کیمپ اپنے گھروں سے زیادہ محفوظ محسوس ہوں، تو سمجھیں کہ وہ خطہ ریاست کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

کسی بھی ملک کو اکیلے فوجیوں کے بوٹوں سے اکٹھا نہیں رکھا جا سکتا، اسے برقرار رکھنے کے لیے اعتماد اور انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ بھارت منی پور کو اپنے نقشے پر تو رکھ سکتا ہے، لیکن نقشے دلوں کی وفاداری ثابت نہیں کرتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں