مائیکرو فنانس بینک کی تاریخی واپسی، کئی سالوں کے نقصان کے بعد 1 ارب روپے سے زائد کا ریکارڈ منافع

کراچی: ابی مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ نے سال 2025 میں شاندار کاروباری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیکس کی ادائیگی کے بعد 1.019 ارب روپے کا تاریخی منافع کمایا ہے۔ یہ منافع بینک کی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے، جبکہ اس کے برعکس سال 2024 میں بینک کو 1.754 ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ایک سال کے دوران ہونے والی اس تیز رفتار ریکوری سے بینک کئی سال کے مسلسل نقصانات کے سلسلے کو توڑنے میں کامیاب رہا ہے۔

پانچ سال بعد منافع میں واپسی
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ مائیکرو فنانس بینک آخری بار سال 2020 میں منافع بخش رہا تھا۔ اس کے بعد مسلسل ہونے والے نقصانات کے بعد اب یہ بہترین کارکردگی سامنے آئی ہے۔ بینک انتظامیہ کے مطابق، یہ شاندار کامیابی مضبوط بیلنس شیٹ، آمدنی کے نئے ذرائع، بہتر ریکوری، سخت کریڈٹ مانیٹرنگ اور اخراجات میں بہترین نظم و ضبط برقرار رکھنے کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

بینک کے اثاثوں اور ڈپازٹس میں ریکارڈ اضافہ
سال 2025 کے دوران بینک کے مالیاتی حجم میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے:

کل اثاثے: سال 2024 میں اثاثوں کی مالیت 40.353 ارب روپے تھی جو اب بڑھ کر 77.066 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

قرضوں کی فراہمی (Advances): بینک کی جانب سے دیے گئے ایڈوانسز تقریباً دگنے ہو کر 18.387 ارب سے 37.556 ارب روپے ہو گئے ہیں، جو کہ 104 فیصد سے زائد کا شاندار اضافہ ہے۔

ڈپازٹس (Deposits): بینک کے پاس جمع شدہ رقم 90.71 فیصد کے اضافے کے ساتھ 36.226 ارب سے بڑھ کر 69.088 ارب روپے ہو گئی ہے، جس نے بینک کے فنڈز کی بنیاد کو مزید مضبوط کیا۔

ریونیو اور اثاثوں کی کوالٹی میں بڑی بہتری
ملک میں جاری مہنگائی اور معاشی چیلنجز کے باوجود بینک کا ریونیو پروفائل مزید مضبوط ہوا ہے۔ بینک کی کل آمدنی 50.66 فیصد کے زبردست اضافے کے ساتھ 9.461 ارب روپے سے بڑھ کر 14.25 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

اس کے ساتھ ہی، غیر فعال قرضوں (NPL) کا تناسب نمایاں طور پر کم ہو کر صرف 0.68 فیصد رہ گیا ہے، جس سے کریڈٹ کے نقصانات میں بڑی کمی آئی ہے۔ سرمائے کی سطح پر اسپانسرز کی لا محدود سپورٹ اور نئے کیپیٹل کی بدولت بینک کی ایکویٹی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہو گئی ہے۔

ڈیجیٹل بینکنگ اور مستقبل کی حکمتِ عملی
بینک نے اس سال گورننس، رسک مینجمنٹ، اور اندرونی کنٹرول کے نظام کو مزید جدید بنایا ہے تاکہ قلیل مدتی فائدے کے بجائے پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔

خاص طور پر ڈیجیٹل بینکنگ کو آگے بڑھانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

ڈیجیٹل قرضوں کی فراہمی کو آسان بنایا گیا۔

مرچنٹ فنانسنگ اور ملازمین کے لیے کمائی گئی اجرت تک فوری رسائی (Earned Wage Access) کا نظام متعارف کروایا گیا۔

آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کی مدد سے صارفین تک رسائی کے عمل کو تیز کیا گیا۔

بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا یہ سلسلہ جاری رہے گا تاکہ بینک کی آپریشنل پوزیشن کو مزید مستحکم رکھا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں