واشنگٹن: دنیا کی قدیم ترین اور سب سے زیادہ بااثر کار ساز کمپنیوں میں شمار ہونے والی مرسڈیز بینز اس وقت ایک بڑے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ امریکہ میں ایک نئی مجوزہ قانون سازی کے باعث عالمی آٹو سیکٹر پر قومی سلامتی کے کنٹرول کو سخت کیا جا رہا ہے، جس نے اس جرمن آٹو کمپنی کے مستقبل پر بھی غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے ہیں۔
موٹر وہیکل ماڈرنائزیشن ایکٹ 2026 کیا ہے؟
امریکہ میں پیش کیے جانے والے اس نئے بل کا مقصد آٹو سیکٹر کی سپلائی چین کو بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت چین، روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ کاروباری اور ایکویٹی تعلقات رکھنے والے کار سازوں پر امریکہ میں گاڑیوں کی درآمد، مینوفیکچرنگ اور فروخت پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس بل نے کثیر القومی کمپنیوں کے شیئر ہولڈنگ ڈھانچے پر کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
چینی سرمایہ کاری مرسڈیز کے لیے مشکل کیوں بنی؟
اگرچہ مرسڈیز بینز گروپ کا مرکزی دفتر جرمنی میں ہے اور یہ امریکی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ ہے، لیکن کمپنی کے شیئر ہولڈنگ میں چینی اداروں کی موجودگی اس کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئی ہے:
کمپنی کا سب سے بڑا انفرادی شیئر ہولڈر چین کا سرکاری ‘BAIC گروپ’ ہے، جس کے پاس 10 فیصد حصص ہیں۔
چینی ارب پتی اور مشہور آٹو کمپنی ‘گیلی’ (Geely) کے بانی لی شوفو بھی ایک انویسٹمنٹ کمپنی کے ذریعے تقریباً 10 فیصد کا حصہ رکھتے ہیں۔
مشترکہ طور پر یہ ہولڈنگز کمپنی کی کل مالیت کا 20 فیصد بنتی ہیں۔ نئے قانون کی ایک اضافی شق کے مطابق، اگر کسی مخالف ملک سے وابستہ ہولڈنگ 15 فیصد یا اس سے زیادہ ہو، تو اس کمپنی پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، جس کی زد میں اب یہ جرمن برانڈ بھی آ سکتا ہے۔
سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر پر پابندیاں: نئی پالیسی کے تحت 2027 کے ماڈل سال سے گاڑیوں میں چینی ساختہ سافٹ ویئر کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ 2030 تک ڈیجیٹل سپلائی چین سیکیورٹی کے تحت ہارڈ ویئر پر بھی سختیاں نافذ کر دی جائیں گی۔
امریکی معیشت اور آٹو انڈسٹری پر اثرات
امریکی قانون ساز اس اقدام کے ذریعے چینی کمپنیوں کو حساس آٹوموٹو ٹیکنالوجی تک رسائی سے روکنا چاہتے ہیں۔ تاہم، سینیٹ میں اس بل کے حوالے سے استثنیٰ کے واضح قوانین نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری کے ماہرین تشویش کا شکار ہیں۔ اگر اس برانڈ کو نقصان پہنچتا ہے تو خود امریکی معیشت متاثر ہوگی کیونکہ یہ کمپنی وہاں ہزاروں شہریوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اور سالانہ لاکھوں گاڑیاں تیار کرتی ہے۔
فلحال یہ بل ایوانِ نمائندگان میں ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آٹو سیکٹر میں غیر ملکی اثر و رسوخ کی سخت جانچ پڑتال کے اشارے صاف نظر آ رہے ہیں۔ اگر یہ بل اسی شکل میں منظور ہو جاتا ہے، تو آٹوموٹو انڈسٹری میں کرمپل زون، اے بی ایس (ABS)، اور ایئر بیگز جیسی انقلابی حفاظتی اختراعات متعارف کروانے والے اس تاریخی برانڈ کو امریکی مارکیٹ میں اپنی بقا کی نئی جنگ لڑنی ہوگی۔
