ٹیکس ریکارڈ پبلک کر دیا: کنگ چارلس تاریخ بدلنے والے پہلے برطانوی بادشاہ بن گئے

برطانوی تاریخ میں پہلی بار: کنگ چارلس اپنا ذاتی ٹیکس ریکارڈ پبلک کرنے والے پہلے بادشاہ بن گئے

لندن: برطانوی شاہی خاندان کی مالیات اور جائیداد کے انتظامات پر اٹھنے والے عوامی سوالات کے جواب میں کنگ چارلس نے ایک تاریخی اور بے مثال قدم اٹھایا ہے۔ وہ برطانیہ کے پہلے ایسے بادشاہ بن گئے ہیں جنہوں نے عوامی سطح پر اپنے ذاتی ٹیکس ریکارڈ اور شراکت داری کی تمام تفصیلات پبلک کر دی ہیں۔

بکنگھم پیلس کے حکام کی جانب سے جاری کردہ آفیشل رپورٹ کے مطابق، کنگ چارلس نے سال 2022 میں تختِ برطانیہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک 41 ملین ڈالر (4 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز) سے زائد کا ذاتی ٹیکس شاہی خزانے میں ادا کیا ہے۔ یہ سنسنی خیز انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہی املاک اور مالی معاملات سے متعلق برطانوی عوام اور میڈیا میں شدید بحث جاری تھی۔ ایک اور بڑی اپڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ کنگ چارلس اور ملکہ کیملا تزئین و آرائش کے جاری ہائی پروفائل پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد بھی بکنگھم پیلس منتقل نہیں ہوں گے، جس کے فنڈز برطانوی ٹیکس دہندگان ادا کر رہے ہیں۔ شاہی جوڑا مستقبل میں بھی ‘کلیرنس ہاؤس’ (Clarence House) کو ہی اپنی مستقل اور مرکزی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کرتا رہے گا، جبکہ بکنگھم پیلس کو صرف سرکاری مصروفیات، سفارتی ملاقاتوں، ریاستی تقریبات اور شاہی استقبالیہ کے لیے ورکنگ ہیڈ کوارٹر کے طور پر برقرار رکھا جائے گا۔

دوسری جانب، پرنس ولیم نے بھی اپنی جائیداد ‘ڈچی آف کارن وال’ (Duchy of Cornwall) سے منسلک طویل المدتی مالیاتی منصوبوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ اس رپورٹ میں رہائشی منصوبوں، ماحولیاتی پروگراموں اور متعدد خطوں میں کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ پرنس آف ویلز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈارٹمور جیل سے حاصل ہونے والی سالانہ کرائے کی بھاری آمدنی کو اب براہِ راست مقامی کمیونٹیز کی مدد اور فلاحی کاموں کے لیے منتقل کیا جائے گا۔ شاہی خاندان کے اس غیر معمولی اقدام کو برطانیہ میں شفافیت کی طرف ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ شاہی خاندان پر اٹھنے والے معاشی سوالات کے بعد کنگ چارلس کی جانب سے اتنی بڑی رقم کا ٹیکس ریکارڈ پبلک کرنے کے اس فیصلے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں