یومِ عاشور عقیدت سے منایا جا رہا ہے: ملک بھر میں مرکزی جلوس برآمد

پاکستان بھر میں یومِ عاشور عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے: سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات، مرکزی جلوس روایتی راستوں پر گامزن

اسلام آباد: پاکستان بھر میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں یومِ عاشور انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس مقدس موقع پر ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تعزیے، علم اور ذوالجناح کا جلوس برآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی کے غیر معمولی اور فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

ملک گیر سطح پر کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، سکھر اور حیدرآباد سمیت تمام اہم مقامات پر ماتمی اجتماعات اور مجالس کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عاشورہ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے ہیں۔ ہر مرکزی جلوس کے مقررہ راستوں کو عام ٹریفک کے لیے مکمل سیل کر دیا گیا ہے اور جگہ جگہ اضافی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے حساس اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کو جزوی طور پر معطل رکھا گیا ہے، جبکہ دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی عوامی نمائش اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر سخت پابندی عائد ہے۔ پنجاب کے انسپکٹر جنرل (IG) کے مطابق، صرف صوبہ پنجاب میں مجالس اور جلوسوں کی حفاظت کے لیے 1 لاکھ سے زائد پولیس افسران اور اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔

کراچی میں عاشورہ کا مرکزی جلوس اپنے روایتی مقام نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے طے شدہ راستوں سے گزرتا ہوا کھارادر میں حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا، جبکہ لاہور کا روایتی جلوس نثار حویلی سے روانہ ہو کر کربلا گامے شاہ پر مکمل ہوگا۔ راولپنڈی میں مرکزی ماتمی قافلہ امام بارگاہ عاشق حسین سے برآمد ہوا ہے۔ پشاور میں پہلا بڑا جلوس امام بارگاہ آغا سید علی رضا شاہ سے برآمد ہونے کے بعد مزید 12 ماتمی قافلے سخت سیکیورٹی میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں۔ کوئٹہ میں علمدار روڈ پر واقع امام بارگاہ حسینی سادات سے برآمد ہونے والے مرکزی کارواں میں 35 سے زائد گروپ شامل ہیں، جہاں رضاکاروں نے سبیلیں اور ہنگامی طبی کیمپ لگا رکھے ہیں۔ تمام جلوسوں کے اختتام پر شامِ غریباں کی مجالس بپا کی جائیں گی، جہاں علماء کرام سانحہ کربلا کے بعد کے مصائب بیان کریں گے۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور جلوسوں کی کڑی نگرانی کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے ان انتظامات کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں