پاکستان کی معیشت کو بڑا فروغ: بارکلیز نے خودمختار قرض کی درجہ بندی بڑھا دی

عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا بڑا دھماکہ: بارکلیز نے خودمختار قرض کو ‘اوور ویٹ’ میں اپ گریڈ کر دیا

کراچی: پاکستان کی معیشت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی محاذ سے ایک اور زبردست اور مثبت خبر سامنے آئی ہے جہاں دنیا کے معروف برطانوی بینکنگ ادارے بارکلیز (Barclays) نے ملک کے خود مختار قرض (Sovereign Debt) کو “اوور ویٹ” (Overweight) درجہ بندی میں اپ گریڈ کر دیا ہے۔ یہ بڑا اقدام پاکستان کے مالیاتی استحکام، بیرونی لچک اور مزید معاشی بہتری کے امکانات میں عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے پختہ اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

برطانوی بینکنگ کمپنی بارکلیز نے محض ایک ماہ قبل جاری کردہ ڈاؤن گریڈ کے فیصلے کو یکسر پلٹ دیا ہے، جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ابھرتی ہوئی نئی امید کا واضح اشارہ ہے۔ وزیر خزانہ کے معاون خرم شہزاد نے بتایا کہ برطانوی بینک نے اپنے اس مثبت اور نظرثانی شدہ آؤٹ لک کے پیچھے عالمی تیل کی مارکیٹ میں بہتری اور پاکستان کے مضبوط ہوتے ہوئے معاشی بنیادی اصولوں کو بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے بہتر مالیاتی پوزیشن، مستحکم بیرونی کھاتوں، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور متوازن افراطِ زر کے ذریعے اپنے میکرو اکنامک استحکام کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے، جس کی بدولت جاری عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک کا بیرونی شعبہ غیر معمولی طور پر لچکدار ثابت ہوا ہے۔ بارکلیز کے تجزیہ کاروں نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی بیرونی پوزیشن کی لچک کو اب کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ملک کے معاشی بفرز اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ سرمایہ کار اب اس کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں۔

بینک نے پاکستان کی کثیر جہتی اور دو طرفہ مالی معاونت تک مسلسل رسائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع اس کی سٹریٹجک جیو پولیٹیکل پوزیشن ملکی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا جغرافیائی فائدہ ہے جو علاقائی حرکیات کے ارتقاء کے ساتھ اضافی اقتصادی فوائد فراہم کرے گی۔ بارکلیز نے سرمایہ کاروں کو 2031، 2036 اور 2051 میں میچور ہونے والے پاکستان کے خودمختار ڈالر بانڈز کے ساتھ ساتھ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے جاری کردہ 2031 کے بانڈز خریدنے کی باقاعدہ سفارش کی ہے۔ لندن میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والے اس عالمی ادارے کے تحقیقی فریم ورک کے تحت “اوور ویٹ” کی درجہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے یہ اثاثے اگلے 12 مہینوں میں دیگر متبادل سرمایہ کاری کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہترین منافع دینے کی مضبوط صلاحیت رکھتے ہیں۔ بارکلیز کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر موجودہ مثبت معاشی رجحانات برقرار رہے تو سال 2026 کے دوسرے نصف حصے کے دوران بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے بھی پاکستان کے لیے مثبت جائزے سامنے آ سکتے ہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا بارکلیز جیسے عالمی ادارے کی جانب سے پاکستانی بانڈز خریدنے کی اس کھلی سفارش کے بعد ملک میں ڈالر کی آمد اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ ہوگا؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں