قطر انرجی اور لکی گروپ کے درمیان پالیسی تنازعات پر منصوبہ ختم ہونے کے چند روز بعد ٹرمپ کے حمایت یافتہ امریکی کنسورشیم نے 4.4 ارب ڈالر کے نئے منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔
پہلے مرحلے میں پورٹ قاسم پر 1.7 ارب ڈالر کی لاگت سے ایل این جی ٹرمینل اور پانچ لاکھ 60 ہزار مکعب میٹر گنجائش کے چار بڑے اسٹوریج ٹینک تعمیر کیے جائیں گے۔
دوسرے مرحلے میں جنوبی ساحلی علاقے کو شمالی منڈیوں سے ملانے کے لیے 1100 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھائی جائے گی۔
قطر انرجی سے منسلک توانائی منصوبے کے پاکستانی مارکیٹ سے دستبردار ہونے کے محض چند روز بعد، ٹرمپ انتظامیہ کے حمایت یافتہ ایک امریکی کنسورشیم نے پاکستان میں امریکی ایل این جی منصوبہ شروع کرنے کے لیے 4.4 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری پر نظریں جما لی ہیں۔ اس میگا پراجیکٹ کے تحت کراچی کے قریب پورٹ قاسم پر ایک جدید ترین ایل این جی ٹرمینل، ساحلی اسٹوریج کمپلیکس اور 1100 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
قطر انرجی کا انخلا اور امریکی مالیاتی اداروں کی پشت پناہی
یہ اہم پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حل نہ ہونے والے پالیسی تنازعات کے باعث پاکستان کے لکی گروپ اور قطر انرجی پر مشتمل بڑا ایل این جی منصوبہ ختم ہو گیا تھا، جس سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالات اٹھ رہے تھے۔ تاہم، اب گلوبل ویژن انرجی پارٹنرز، خانجی ہولڈنگز اور لکسمبرگ کی جنرل میڈیٹرینین ہولڈنگ دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر اس خلا کو پر کرنے کے لیے میدان میں آ گئی ہیں۔
اس کنسورشیم کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے، جبکہ امریکی تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی نے بھی اس تجویز کو اپنے منصوبہ سازی کے پروگرام کے تحت غور کے لیے منظور کر لیا ہے۔ مزید برآں، امریکی آلات اور ٹیکنالوجی کی خریداری کے لیے یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن سے مالی معاونت اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے کریڈٹ گارنٹی حاصل کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ اسپانسرز نے پورٹ قاسم اتھارٹی سے جگہ کی منظوری حاصل کرنے کے بعد اوگرا کو عارضی لائسنس کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں وزارتِ سمندری امور اور پیٹرولیم ڈویژن مکمل سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں۔
پورٹ قاسم ٹرمینل اور گیارہ سو کلومیٹر طویل پائپ لائن کے دو مراحل
اگرچہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی تجویز کے مرحلے میں ہے اور حتمی مالیاتی معاہدے ہونا باقی ہیں، لیکن اسے دو بڑے مراحل میں مکمل کرنے کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 1.7 ارب ڈالر کی لاگت سے پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل اور پاکستان کی پہلی بڑی ساحلی اسٹوریج سہولت تعمیر کی جائے گی۔ اس کمپلیکس میں چار دیوہیکل اسٹوریج ٹینک ہوں گے جن میں سے ہر ایک کی گنجائش ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر ہوگی۔ مجموعی طور پر پانچ لاکھ 60 ہزار مکعب میٹر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ یہ ٹرمینل سالانہ تقریباً 35 سے 35.6 ارب مکعب فٹ قدرتی گیس ہینڈل کرے گا۔
دوسرے مرحلے میں جنوبی ساحلی پٹی کو ملک کے شمالی صنعتی اور تجارتی مراکز سے جوڑنے کے لیے 1100 کلومیٹر طویل گیس ٹرانسمیشن پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ 42 سے 48 انچ قطر کی یہ پائپ لائن یومیہ 1.2 ارب مکعب فٹ گیس منتقل کرنے کی صلاحیت رکھے گی، جس کی شمولیت سے منصوبے کا کل حجم 4.4 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
عالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت اور توانائی مارکیٹ کے چیلنجز
منصوبے کے مالکان نے 70 فیصد قرض اور 30 فیصد ایکویٹی کا مالیاتی فریم ورک تجویز کیا ہے۔ اس میں گرے راک انویسٹمنٹ پارٹنرز، کے کے آر، بلیک اسٹون، سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی جیسے بڑے عالمی فنڈز کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجوزہ ملکیت میں گلوبل ویژن انرجی پارٹنرز کا حصہ 26 فیصد، جنرل میڈیٹرینین ہولڈنگ کا 24 فیصد، خانجی ہولڈنگز کا 20 فیصد اور عالمی اسٹریٹجک سرمایہ کاروں کا حصہ 20 فیصد ہوگا، جبکہ مقامی پاکستانی سرمایہ کاروں کو کم از کم پانچ کروڑ ڈالر فی کس سرمایہ کاری کے ساتھ 10 فیصد تک شیئرز حاصل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
حکومتی گارنٹی پر چلنے والے روایتی منصوبوں کے برعکس، یہ منصوبہ ایک نجی تجارتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا جو صنعتی شعبے کے لیے گیس کی قلت دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان کے توانائی سیکٹر میں بڑھتا ہوا گردشی قرضہ، درآمدی گیس کی اونچی قیمتیں اور شمسی توانائی کی طرف صارفین کا بڑھتا ہوا رجحان اس منصوبے کی طویل مدتی کامیابی کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔
علاقائی توانائی کی سیاست اور اوورسیز سرمایہ کاروں کے لیے اہمیت
پاکستان کے توانائی کے شعبے میں امریکی کنسورشیم کی یہ بڑی انٹری خطے کی معاشی اور جغرافیائی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔ کینیڈا، شمالی امریکا اور خلیجی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ پیشرفت انتہائی اہم ہے، کیونکہ پورٹ قاسم کو علاقائی توانائی کا تجارتی مرکز بنانے اور گیس ٹریڈنگ میں نجی شعبے کو شامل کرنے سے پاکستان کی صنعتوں کو بلا تعطل توانائی مل سکے گی، جو ملکی برآمدات اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
