لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں توسیع پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
عدالت نے نورین نیازی کی دونوں بیٹیوں کو منگل کی صبح 10 بجے کوٹ لکھپت جیل میں اپنی والدہ سے ایک گھنٹے کی ملاقات کی اجازت دے دی۔
وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں بہنیں بغیر کسی جرم کے 44 دن سے قید ہیں، جبکہ عدالت نے علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کی حراست پر بھی رپورٹس طلب کر لیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی نظربندی میں مزید توسیع کے خلاف دائر درخواستوں پر بڑا حکم جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ جسٹس عبہر گل خان نے پیر کے روز علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان اور سکینہ بی بی کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ نورین نیازی کی بیٹیوں کو جیل میں اپنی والدہ سے ملاقات کی فوری اجازت دی جائے۔
عدالتی کارروائی، ملاقات کا حکم اور طبی سہولیات پر بحث
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی نے بغیر کسی جرم کے 44 دن جیل میں گزارے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے نورین نیازی کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دل کی تکلیف کے باعث انہیں 28 اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم، پنجاب حکومت کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اسپتال میں علاج مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی بیٹی ہاجرہ نیازی 29 اکتوبر کو اسپتال میں ان سے ملاقات بھی کر چکی ہیں۔
دلائل سننے کے بعد جسٹس عبہر گل خان نے ہدایت کی کہ منگل کی صبح 10 بجے نورین نیازی کی دونوں بیٹیوں کو کوٹ لکھپت جیل میں والدہ سے ایک گھنٹے کی ملاقات کرائی جائے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کے وکیل ڈی سی لاہور کو باضابطہ درخواست جمع کرائیں گے، جس کی بنیاد پر انتظامیہ ملاقات کا انتظام کرنے کی پابند ہوگی۔ دریں اثنا، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے علیمہ خان کے غیر سیاسی ڈرائیور کی حراست کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ چونکہ درخواستیں ایک ساتھ دائر کی گئی ہیں، اس لیے دونوں معاملات کی رپورٹس کا یکجا جائزہ لیا جائے گا۔
ایم پی او آرڈیننس کے تحت گرفتاری اور واقعے کا پس منظر
واضح رہے کہ علیمہ خان اور نورین نیازی کی نظربندی کا یہ سلسلہ گزشتہ ماہ پاکستان تحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاج سے قبل شروع ہوا تھا۔ انتظامیہ نے نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت علیمہ خان کو 20 ستمبر، جبکہ نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو ابتدائی طور پر 30 روز کے لیے حراست میں لیا تھا۔ یہ کارروائی پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو طے شدہ مظاہرے سے قبل کی گئی تھی، جسے بعد ازاں 4 اکتوبر کو منتقل کر دیا گیا تھا۔
چنانچہ، اکتوبر کے آخر میں پنجاب حکومت نے عدالت کو مطلع کیا کہ ڈی سی لاہور کی سفارش پر تینوں بہنوں کی نظربندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب، درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہے کہ ابتدائی نظربندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی غیر قانونی طور پر توسیعی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
قانونی مضمرات اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کا نقطہ نظر
پاکستان میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے اہلِ خانہ کے خلاف ایم پی او (MPO) جیسے نوآبادیاتی دور کے قوانین کا بار بار استعمال شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ کینیڈا، برطانیہ اور دیگر جمہوری ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی ان عدالتی کارروائیوں کو بغور دیکھ رہی ہے، جہاں بغیر مقدمہ چلائے طویل نظربندی کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ڈی سی لاہور کی ذاتی طلبی اور طبی و خاندانی ملاقات کی اجازت دینا انتظامی اختیارات کے بے جا استعمال کو روکنے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم عدالتی اقدام ہے۔
