پاکستان میں 5 سال سے پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ملنے کے بعد کار مارکیٹ اور درآمدی گاڑیوں کا منظر

پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت: کیا کاریں سستی ہوں گی؟

وفاقی حکومت نے کمرشل بنیادوں پر 5 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کی درآمد پر عائد عمر کی پابندی ختم کر دی۔

تجارتی درآمدات پر 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور سخت معائنے کی شرائط برقرار رہنے کے باعث قیمتوں میں فوری کمی کا امکان نہیں ہے۔

نئی آٹوموبائل پالیسی کے تحت درآمد کنندگان کے لیے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) سے رجسٹریشن، ورکشاپس اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی لازمی قرار دی گئی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے تجارتی بنیادوں پر 5 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد پاکستان کی آٹوموبائل مارکیٹ میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نئی آٹوموبائل پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کی وفاقی کابینہ سے حتمی توثیق ہونا باقی ہے۔ تاہم، آٹو سیکٹر کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھاری ٹیکسوں اور سخت ریگولیٹری شرائط کے باعث گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری اور بڑی کمی کی توقع رکھنے والے صارفین کو مایوسی ہو سکتی ہے۔

قیمتوں پر اثرات، 50 فیصد ڈیوٹی اور معائنے کی کڑی شرائط
نئی حکومتی پالیسی کے تحت رجسٹرڈ کمرشل امپورٹرز اب پانچ سال سے پرانی غیر ملکی گاڑیاں پاکستان لا سکیں گے، لیکن اس کے باوجود استعمال شدہ کاروں کی قیمتیں راتوں رات نیچے آنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کمرشل گاڑیوں کی امپورٹ پر اس وقت بھی 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے، جو سستی گاڑیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ، قیمتوں میں ڈرامائی کمی کے بجائے اس فیصلے کا پہلا عملی فائدہ یہ ہوگا کہ خریدار اپنے موجودہ بجٹ کے اندر نسبتاً بڑی، آرام دہ اور بہتر فیچرز والی غیر ملکی گاڑیاں خرید سکیں گے۔

مزید برآں، آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین کامران خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پانچ سال کی حد ختم کر دی گئی ہے، لیکن امپورٹرز کو زیادہ سے زیادہ 10 سال پرانی گاڑیوں پر توجہ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ وہ فٹنس اور ماحولیاتی معیارات پر پوری اتر سکیں۔ اس کے علاوہ، درآمد کی جانے والی گاڑی چوری شدہ یا حادثے کا شکار نہیں ہونی چاہیے اور اس کا شپمنٹ سے قبل اور پاکستان پہنچنے کے بعد لازمی معائنہ کیا جائے گا۔ درآمد کنندگان کے لیے انکم و سیلز ٹیکس اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا اور صارفین کے لیے اسپیئر پارٹس و مرمت کی سہولیات (اپنی ورکشاپس یا دیگر سروس فراہم کنندگان سے معاہدے کے ذریعے) یقینی بنانا بھی لازمی ہوگا۔

درآمدی اسکیموں کا پس منظر اور مقامی آٹو انڈسٹری کے خدشات
ماضی پر نظر ڈالی جائے تو مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں بھی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دی تھی، لیکن پیچیدہ ریگولیٹری شرائط کے باعث اگلے 18 ماہ کے دوران عملی طور پر ایک بھی گاڑی کمرشل چینل سے پاکستان نہیں آ سکی۔ دوسری جانب، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے موجود تین روایتی ذرائع میں سے حکومت نے 2025 میں “بیگج اسکیم” ختم کر دی تھی۔ اب صرف گفٹ اسکیم اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیم ہی فعال ہیں، جبکہ گفٹ اسکیم کے تحت آنے والی گاڑی کو پاکستان پہنچنے کے بعد ایک سال تک کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کرنے پر پابندی بدستور برقرار ہے۔

نئی آٹوموبائل پالیسی پاکستان کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا اور برآمدی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، مقامی آٹو انڈسٹری پر اثرات کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پرانی گاڑیوں کی غیر منظم اور بے تحاشا درآمد ہوئی تو مقامی کار ساز اداروں (OEMs) کو شدید دباؤ اور مارکیٹ میں طلب سے زیادہ سپلائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صنعت کاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ روزگار اور تکنیکی ترقی کے تحفظ کے لیے درآمدی نرمی اور مقامی مینوفیکچرنگ کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔

معاشی مضمرات اور اوورسیز پاکستانیوں کا نقطہ نظر
کینیڈا، برطانیہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ پالیسی تبدیلی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ 2025 میں بیگج اسکیم کی بندش اور گفٹ اسکیم پر ایک سالہ منتقلی کی شرط کے بعد تارکینِ وطن کو پاکستان میں اپنے خاندانوں کے لیے گاڑیاں بھیجنے میں کافی دشواری کا سامنا تھا۔ اب کمرشل امپورٹرز کو 5 سے 10 سال پرانی گاڑیاں لانے کی اجازت ملنے سے اوورسیز پاکستانیوں کو خود کاغذی کارروائی اور شپمنٹ کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر مقامی مارکیٹ سے ہی معیاری امپورٹڈ گاڑیاں خریدنے کی سہولت مل سکے گی، بشرطیکہ حکومت مستقبل میں ریگولیٹری ڈیوٹی میں بتدریج کمی کر کے اس پالیسی کو عام خریدار کے لیے حقیقی معنوں میں قابلِ استطاعت بنائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں