لاہور میں سموگ کا بحران اور فضا میں چھایا دھواں

پنجاب میں سموگ کا بحران: فصلیں جلانے میں 4 گنا اضافہ

سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق اکتوبر کے 29 دنوں میں پاکستانی پنجاب میں 13,241 مقامات پر آگ جلائی گئی، جو بھارتی پنجاب کے مقابلے میں 4.2 گنا زیادہ ہے۔

مجموعی آگ کا تقریباً 92 فیصد زرعی اراضی میں دیکھا گیا، جس میں اوکاڑہ، گوجرانوالہ اور ننکانہ صاحب سرِ فہرست ہاٹ اسپاٹس قرار پائے۔

ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے بھٹوں اور صنعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے جرمانے اور درجنوں گرفتاریاں عمل میں لائیں۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور اور گردونواح میں سموگ کا بحران ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ زرعی باقیات کو بڑے پیمانے پر جلانا بتائی جا رہی ہے۔ آزاد ماحولیاتی مانیٹرنگ اور سیٹلائٹ رپورٹس سے یہ پریشان کن حقیقت سامنے آئی ہے کہ اکتوبر 2026 کے دوران پاکستانی پنجاب میں سرحد پار بھارتی پنجاب کے مقابلے میں چار گنا سے زائد زرعی آگ کے مقامات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اگرچہ سازگار موسمی حالات کی بدولت لاہور کی فضا گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی، تاہم ہوا کا معیار بدستور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے محفوظ معیارات سے سات گنا زیادہ آلودہ رہا۔

سیٹلائٹ مشاہدات اور اضلاع میں زرعی آگ کے اعداد و شمار
ماحولیاتی مانیٹرنگ پلیٹ فارم “ہماری ہوا” کے مطابق 1 سے 29 اکتوبر کے دوران پاکستانی پنجاب میں سیٹلائٹ کے ذریعے 13,241 آگ کے مقامات کی نشاندہی کی گئی، جبکہ بھارتی پنجاب میں یہ تعداد محض 3,158 ریکارڈ ہوئی۔ واضح رہے کہ ناسا کے ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے تحت لیے گئے ان مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے کہ 92 فیصد واقعات زرعی اراضی میں رونما ہوئے، جو فصلوں کی باقیات جلانے کی واضح علامت ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹنگ مدت کے آخری سات دنوں میں صورتحال زیادہ بگڑ گئی، جہاں مجموعی گنتی کے نصف یعنی 6,655 واقعات سامنے آئے اور 29 اکتوبر کو یومیہ تعداد 1,327 تک پہنچ گئی۔ اضلاع کے تناظر میں اوکاڑہ 2,144 واقعات کے ساتھ بدترین ہاٹ اسپاٹ رہا، جبکہ گوجرانوالہ میں 1,011 اور ننکانہ صاحب میں 1,003 مقامات پر آگ دیکھی گئی۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ ان تینوں اضلاع میں ریکارڈ کی گئی آگ پورے بھارتی پنجاب کی مجموعی تعداد سے بھی تجاوز کر گئی۔

تاریخی تقابل، موسمی اثرات اور ای پی اے کا قانونی کریک ڈاؤن
تاریخی تقابل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2019 اور 2025 کے درمیان بھارتی پنجاب نے فصلیں جلانے پر قابو پاتے ہوئے 95 فیصد تک کمی حاصل کی، جبکہ اس کے برعکس پاکستانی پنجاب میں ان واقعات میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مطابق اس سال جلانے کے عمل کا آغاز ایک ہفتہ تاخیر سے ہوا، جس کے اثرات نومبر کے دوران لاہور کی فضائی آلودگی میں مزید سنگینی کا سبب بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (EPA) نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے انتظامی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ 28 ستمبر سے 27 اکتوبر کے دوران حکام نے 11,580 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا، جن میں سے 197 روایتی بھٹوں کو مسمار اور 163 کو سیل کر دیا گیا۔ مزید برآں قانون کی خلاف ورزی پر 162 مقدمات درج کیے گئے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر 40.7 ملین روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔

ماحولیاتی گورننس کے اثرات اور اوورسیز کمیونٹی کا نقطہ نظر
لاہور میں آلودگی کی مسلسل شدت نہ صرف شہریوں کی صحت بلکہ معیشت اور شہری زندگی کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔ کینیڈا اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی تارکین وطن طویل عرصے سے پاکستان میں پائیدار ماحولیاتی پالیسیوں اور مؤثر مانیٹرنگ کے نفاذ پر زور دیتے رہے ہیں۔ کینیڈین پاکستانی کمیونٹی کے مطابق جب تک کسانوں کو مشینری کے متبادل وسائل اور جدید زرعی سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی، محض سزاؤں سے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں ہوگا۔ شفاف ڈیٹا، سرحد پار باہمی تعاون اور سخت قانونی عملداری ہی پنجاب کو اس ماحولیاتی آفت سے مستقل نجات دلا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں