ٹکر کارلسن کی جانب سے ایران پر امریکی جوہری حملے کا دعویٰ اور پک ایکس ماؤنٹین کی زیرِ زمین تنصیب کا علامتی منظر

ایران پر امریکی جوہری حملے کا دعویٰ: ٹکر کارلسن کا انتباہ

معروف امریکی صحافی اور مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی دباؤ کے تحت 7 نومبر تک ایران کی زیرِ زمین تنصیب پر جوہری حملے پر غور کر سکتے ہیں۔

وسطی ایران میں نتنز کے قریب واقع پک ایکس ماؤنٹین (کوہِ کلنگ گز لا) پہاڑوں کے نیچے 300 فٹ سے زائد گہرائی میں واقع ہے جہاں روایتی بنکر بسٹر بموں کی کامیابی غیر یقینی ہے۔

کارلسن نے خبردار کیا ہے کہ جوہری دھماکے کی صورت میں خلیجِ فارس کا پانی تابکاری سے آلودہ ہو سکتا ہے جس سے 10 کروڑ افراد کے پینے کے پانی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

واشنگٹن میں معروف امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے ایران پر امریکی جوہری حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے عالمی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کارلسن نے اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے مسلسل دباؤ میں آ کر 7 نومبر کے اوائل تک ایران کے انتہائی محفوظ زیرِ زمین جوہری کمپلیکس پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

پک ایکس ماؤنٹین کی جغرافیائی ساخت اور روایتی ہتھیاروں کی حدود
ٹکر کارلسن نے اگرچہ اپنے ان سنگین دعووں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی امریکی یا اسرائیلی حکومت نے ایسے کسی آپریشن کی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے، تاہم اس بیان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جوہری تنازعے کو ایک نئے مباحثے کی طرف موڑ دیا ہے۔ اس تنازعے کے مرکز میں وسطی ایران کے نتنز جوہری کمپلیکس کے قریب واقع پک ایکس ماؤنٹین (جسے مقامی طور پر کوہِ کلنگ گز لا کہا جاتا ہے) کی زیرِ زمین تنصیب ہے۔

ماہرین کے مطابق تقریباً سات سے آٹھ سال قبل شروع ہونے والا یہ قلعہ بند منصوبہ سنگلاخ پہاڑوں کے نیچے 300 فٹ سے زیادہ گہرائی میں پھیلی ہوئی سرنگوں پر مشتمل ہے، جسے ایرانی حکام جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور اسمبلی سے جوڑتے رہے ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کو شبہ ہے کہ تہران نے ماضی کے فوجی حملوں کے بعد اپنی افزودہ یورینیم اور حساس آلات کو اسی زیرِ زمین مقام پر منتقل کر کے دوبارہ افزودگی شروع کر دی ہے۔ کارلسن کا استدلال ہے کہ چٹانوں کی غیر معمولی گہرائی کے باعث امریکا کے طاقتور ترین روایتی بنکر بسٹر بم (جی بی یو-57 میسو آرڈیننس پینیٹریٹر) بھی ان تہہ خانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی یقینی صلاحیت نہیں رکھتے، جو واشنگٹن کو جوہری آپشن پر غور کرنے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

نیتن یاہو کا مبینہ سفارتی دباؤ اور امریکی جوہری پالیسی میں تبدیلی کے الزامات
امریکی صحافی نے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اس دباؤ کی مہم کا مرکزی کردار قرار دیا ہے۔ ایک نامعلوم باخبر ذریعے کے حوالے سے کارلسن نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے اس معاملے پر روزانہ کی بنیاد پر امریکی صدر سے رابطہ کر رہے ہیں، اور اسی سلسلے میں انہوں نے 27 ستمبر کو ابوظہبی کا نجی دورہ کر کے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم، آزاد ذرائع سے ان دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور سرکاری رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کی گفتگو روایتی فوجی کارروائی اور سفارتی امکانات کے گرد ہی گھومتی رہی ہے۔

مزید برآں، کارلسن نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ فروری سے امریکی جوہری حکمتِ عملی میں خاموشی سے تبدیلیاں لا رہی ہے تاکہ چھوٹے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور اعلیٰ عسکری قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ سابق صدر باراک اوباما سمیت دیگر ڈیموکریٹک رہنماؤں کے حوالے سے بھی سفارتی عمل کی مخالفت کے غیر مصدقہ سوالات اٹھائے۔

خلیجِ فارس میں تابکاری کا خطرہ اور انسانی المیے کا انتباہ
فوجی پہلوؤں کے علاوہ ٹکر کارلسن نے اس زیرِ زمین تنصیب پر جوہری ہتھیار کے استعمال سے پیدا ہونے والے ہولناک انسانی اور ماحولیاتی نتائج سے بھی خبردار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہاڑ کے نیچے ایٹمی دھماکے کی صورت میں تابکار مواد پھیل کر خلیجِ فارس کے پانیوں میں شامل ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ خلیجِ فارس کے کنارے واقع ممالک اپنی آبادی کے لیے سمندری پانی کو صاف کرنے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ تابکاری پھیلنے کی صورت میں خطے کے تقریباً 10 کروڑ انسانوں کے پینے کے پانی کی فراہمی، بنیادی انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

عالمی امن پر اثرات اور کینیڈا و مشرقِ وسطیٰ میں مقیم پاکستانیوں کی تشویش
اگرچہ ٹکر کارلسن کے یہ دعوے تاحال غیر مصدقہ ہیں، لیکن امریکا کے ایک بااثر میڈیا مبصر کی جانب سے جوہری حملے کے امکان پر کھلی بحث نے عالمی سطح پر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ کینیڈا، شمالی امریکا اور بالخصوص خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں اوورسیز پاکستانی اس صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ خلیجِ فارس میں کسی بھی قسم کی ماحولیاتی یا عسکری تباہی نہ صرف وہاں مقیم تارکینِ وطن کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرے گی، بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور پاکستان کی سرحدی و معاشی سلامتی کے لیے بھی ایک غیر معمولی بحران کھڑا کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں