ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر بیٹی کا قتل: امریکی نژاد لڑکی کے والد اور چچا کو عمر قید

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی مقامی عدالت نے سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر اپنی ہی 14 سالہ بیٹی کو قتل کرنے کے جرم میں پاکستانی نژاد امریکی والد اور چچا کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہد جاوید نے جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان پر دو دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

تفصیلات کے مطابق، امریکی شہریت رکھنے والی 14 سالہ حرا انور کو جنوری 2025 میں کوئٹہ میں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت نے ابتدائی طور پر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور یہ دعویٰ کیا کہ نامعلوم مسلح افراد نے اس کی بیٹی پر حملہ کیا ہے۔ تاہم، سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ (SCIW) کی باریک بینی سے کی گئی سائنسی تحقیقات نے والد اور چچا کی گھناؤنی اور پہلے سے طے شدہ سازش کا پردہ چاک کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔

تحقیقات کے مطابق، ملزم انوار الحق نے تقریباً تین دہائیاں امریکہ میں ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر گزاریں، جہاں حرا پیدا ہوئی اور اس کی پرورش ہوئی۔ ملزم اپنی بیٹی کے آزادانہ طرز زندگی اور ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر سخت معترض تھا۔ وہ حرا کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امریکہ سے پہلے لاہور اور پھر کوئٹہ لایا، جہاں اسے مبینہ طور پر خاندانی اعتراضات کی بنا پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

چونکہ مقتولہ اور اس کا والد دونوں امریکی شہری تھے، اس لیے اس کیس نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ حاصل کی۔ تفتیش کے دوران امریکی سفارت خانے کے حکام نے بھی کوئٹہ کا دورہ کر کے قونصلر رسائی کے تحت ملزم سے ملاقات کی تھی۔ استغاثہ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر قیصر خان اور SCIW کے اے ایس آئی بسم اللہ خان نے عدالت میں مضبوط شواہد پیش کیے، جس پر عدالت نے مقتولہ کے قریبی رشتہ داروں کو اس سنگین جرم پر عمر قید کا تاریخی فیصلہ سنایا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ روایتی خاندانی دباؤ اور بچوں کی ڈیجیٹل زندگی کے اس ہولناک تصادم پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں