اسلام آباد: معروف پاکستانی عالم دین اور منہاج القرآن کے شعبہ فتویٰ کے سربراہ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی انتقال کر گئے ہیں، جس سے مذہبی اور علمی حلقوں میں ایک گہرا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اسلامی تعلیم، تدریس اور فقہی تحقیق میں ان کی دہائیوں پر محیط طویل شراکت کے لیے ان کا علمی دنیا میں بڑے پیمانے پر احترام کیا جاتا تھا۔
تعلیمی اور فقہی خدمات کا طویل سفر
مرحوم نے اپنی تمام زندگی اسلامی تعلیم اور فقہی تحقیق کی خدمات کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کے تدریسی کیریئر کے حوالے سے اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی نے اپنے کیریئر کے دوران ہزاروں طلباء کی علمی رہنمائی کی۔
ان کے تربیت یافتہ طلباء اس وقت پاکستان اور بیرون ملک مختلف مذہبی اور علمی اداروں میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مرحوم تقریباً 38 سال تک منہاج القرآن کے تحت قائم کردہ ‘کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز’ سے وابستہ رہے۔
انہوں نے اس ادارے میں ایک سینئر استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اسلامی اسکالرشپ اور فکری تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
نمازِ جنازہ کا شیڈول اور امامت
منہاج القرآن انتظامیہ کے مطابق، مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ مغرب مرکزی سیکرٹریٹ منہاج القرآن میں ادا کی جائے گی۔ اس جنازے کی امامت منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کریں گے۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا گہرے دکھ کا اظہار
مفتی ہزاروی کے انتقال پر منہاج القرآن کے بانی اور سرپرستِ اعلیٰ نے خصوصی تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔

