امریکہ ایران امن معاہدہ: اسرائیل کا تسلیم کرنے سے انکار

تل ابیب / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں 100 دن سے زائد جاری رہنے والے شدید ترین تنازعات کو ختم کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے امریکہ ایران امن معاہدہ (ایم او یو) نے پورے خطے کی سیاست میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں عالمی ثالث اسے علاقائی استحکام کے لیے ایک تاریخی موڑ قرار دے رہے ہیں، وہی اسرائیل کی سخت گیر قیادت نے اس معاہدے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیل کا سخت موقف اور مقبوضہ اراضی سے انخلا سے انکار
اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتامار بن گویر نے اس امن معاہدے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اس کا پابند نہیں ہے کیونکہ یہ ملک کی سلامتی کی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا اور حالیہ حملوں کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا کا آپشن مسترد نہیں کیا جاتا، تب تک اسرائیلی فوج کا آپریشن جاری رہے گا۔

دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر یائر گولن نے بھی شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ اس معاہدے نے اسرائیل کے میدانِ جنگ میں حاصل کردہ تمام فوائد کو مٹی میں ملا دیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سیاسی طور پر کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی تزویراتی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے جس سے دشمنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور اسرائیل کا ڈیٹرنس ٹوٹ گیا ہے۔

معاہدے کی 14 اہم دفعات اور شرائط
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جنیوا میں باقاعدہ دستخط کے لیے تیار اس معاہدے کے مسودے میں 14 اہم دفعات شامل ہیں، جن کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔

اس تجارتی اور سیاسی فریم ورک کی اہم ترین شرائط درج ذیل ہیں:

فوجی آپریشنز کا خاتمہ: تمام محاذوں پر دشمنی کا فوری اور جامع خاتمہ کیا جائے گا۔

بحری ناکہ بندی اور امریکی افواج: 30 دنوں کے اندر بحری ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور ایران کے قریب تعینات امریکی افواج کا انخلا عمل میں لایا جائے گا۔

آبنائے ہرمز اور تیل کی برآمدات: آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں معطل ہوں گی۔

منجمد اثاثوں کی واپسی: مذاکرات کی مدت کے دوران 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کیے جائیں گے، جبکہ دستخط کے 60 دنوں کے اندر بڑا جوہری معاہدہ متوقع ہے۔

واضح رہے کہ اس تجویز میں ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی مسلح گروپوں کی حمایت جیسے متنازع مسائل کو فی الحال پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے اور مزید مذاکرات کو پابندیوں میں نرمی سے مشروط کیا گیا ہے۔

پاکستان کا ثالثی کردار اور شہباز شریف کا اعلان
پاکستان اس عالمی سفارتی پیش رفت میں امن قائم کرنے والے اہم ترین ممالک میں شامل رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سب سے پہلے اس معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا اور تمام محاذوں پر عسکری آپریشنز کو مستقل طور پر ختم کرنے کے اتفاق کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے امریکہ، ایران، قطر، سعودی عرب اور ترکی کو اس تاریخی معاہدے کو یکجا کرنے کا مشترکہ سہرا دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں