ایران امریکہ معاہدہ: امریکی جرائم نہیں بھولیں گے، ایران

تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ جاری سفارتی عمل پر اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ سفارتی مفاہمت کے باوجود ایرانی عوام اسرائیل اور امریکہ کی مبینہ ناانصافیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ترجمان کے مطابق، کسی بھی ایران امریکہ معاہدہ یا مفاہمت کا مطلب ماضی کے “جرائم” کو معاف کرنا یا فراموش کرنا ہرگز نہیں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے ایک طویل عمل درکار ہوگا۔

جنیوا میں ایم او یو پر دستخط اور ٹائم لائن
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے طریقہ کار کو آج یا کل تک حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

معاہدے کے حوالے سے سفارتی ٹائم لائن درج ذیل ہے:

دستخط کی تقریب: ایم او یو پر دستخط کی باضابطہ تقریب رواں ہفتے جمعہ کے روز جنیوا میں منعقد ہوگی۔

ہمسایہ ممالک کے دورے: دستخط کی تقریب سے قبل ایرانی حکام خطے کے ہمسایہ ممالک کا اہم دورہ کریں گے۔

جنگ کا خاتمہ: ایران کا اصرار ہے کہ جنگ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ختم ہونی چاہیے۔ لبنان کی خودمختاری کا احترام، جارحیت کا خاتمہ اور اس کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنانا اس سمجھوتے کے اہم ترین حصے ہیں۔

آبنائے ہرمز اور بحری فیس کا نیا نظام
ترجمان نے سیکیورٹی اور عالمی تجارتی راستوں کے حوالے سے بتایا کہ ایران، عمان اور دیگر ممالک مل کر آبنائے ہرمز کو ایک محفوظ گزرگاہ بنانے کے لیے کام کریں گے۔ اس سٹریٹجک بحری راستے پر سمندری خدمات کی فیس ایک محدود مدت کے لیے طے شدہ شرائط کے تحت وصول کی جائے گی۔

اثاثوں کی واپسی اور تیل کی برآمدات پر ایرانی شرائط
معاہدے کے تحت معاشی پابندیوں کے خاتمے اور فنڈز کی منتقلی پر ایران نے اپنا موقف انتہائی واضح رکھا ہے۔

اسماعیل بقائی کا واشنگٹن کو انتباہ: “اس معاہدے میں معاوضے کی ادائیگی اور ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کے امریکی وعدے شامل ہیں، اور واشنگٹن کو اپنی یہ ذمہ داریاں ہر صورت پوری کرنی ہوں گی۔ ایران کے منجمد اثاثے واپس کیے جائیں گے اور امریکہ ایران کو اپنے فنڈز فراہم نہیں کر رہا بلکہ ایران کے اپنے فنڈز واپس مل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران کو تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کی بھی اجازت دی جانی چاہیے، بصورتِ دیگر امریکہ کی جانب سے وعدوں کی پاسداری میں ناکامی باہمی اور جوابی اقدامات کا باعث بنے گی۔”

ایرانی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات، بشمول ایرانی قیادت کا نقصان اور ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت کی مذمت میں بین الاقوامی برادری کی ناکامی کو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں