امریکہ ایران امن معاہدہ: ٹرمپ اور ایران کے بیانات میں تضاد

واشنگٹن / تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، تاہم دونوں ممالک کے متضاد بیانات نے دستخط کے صحیح وقت پر شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اتوار تک ایک الیکٹرانک (ڈیجیٹل) دستخط کی تقریب منعقد ہو سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ اور آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر آج اتوار کو ہی دستخط کیے جانے کا وقت طے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے فوراً بعد، عالمی سطح پر حساس ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” کو فوری طور پر سب کے لیے کھول دیا جائے گا، جو طویل عرصے سے جاری علاقائی کشیدگی میں کمی کا واضح اشارہ ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر خطے میں حالات پرامن رہے تو واشنگٹن جوہری مواد نکالنے (مائننگ) کے لیے آگے بڑھے گا اور ایران سمیت وسیع مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ طویل مدتی تعاون قائم کرے گا۔ تاہم، انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر یہ عمل ناکام ہوتا ہے تو امریکہ کے پاس متبادل آپشنز بھی تیار ہیں۔

پاکستان کا سفارتی کردار اور اعلیٰ سطحی رابطے
اس جاری سفارتی عمل میں پاکستان ایک اہم ثالث اور مضبوط آواز بن کر ابھرا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ ایران امن معاہدہ اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے اور اسے اگلے 24 گھنٹوں میں حتمی شکل دے کر الیکٹرانک دستخط کر دیے جائیں گے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق معاہدے کا متن مکمل طور پر تیار کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کے تحت درج ذیل رہنماؤں سے ٹیلی فون پر الگ الگ تفصیلی گفتگو کی ہے:

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان

سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کیسس

پاکستان نے ان مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی امن اور استحکام کے لیے ایک ‘حوصلہ افزا پیش رفت’ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں بھی تھیں کہ اسحاق ڈار دستخط کی سہولت کاری کے لیے جنیوا جا رہے ہیں، تاہم دفترِ خارجہ نے ان خبروں کی باضابطہ تردید کر دی ہے۔

ایران کا مؤقف: “اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے”
ترجمان اسماعیل بقائی کا بیان: امریکی اور پاکستانی امیدوں کے برعکس، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے۔ انہوں نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ آنے والے دنوں میں مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط تو ممکن ہیں، لیکن کوئی بھی حتمی ٹائم لائن ابھی طے نہیں ہے۔ بقائی نے “دوسری طرف سے ہچکچاہٹ” کا ذکر کرتے ہوئے دستخط کے شیڈول کے بارے میں قطعی بیانات دینے پر احتیاط برتنے پر زور دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں