راولاکوٹ میں تصادم: جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے پر کریک ڈاؤن، 15 ہلاکتیں اور اشیاء کی شدید قلت

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں اتوار کی صبح سویرے ہونے والے ایک بڑے آپریشن اور پرتشدد جھڑپوں کے بعد پورے خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر انتظامیہ کے کریک ڈاؤن کے بعد مقامی آبادی کو ضروری سامان اور راشن کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

عیدگاہ دھرنے پر آپریشن اور دونوں اطراف کا مؤقف
سرکاری حکام نے اتوار کے اوائل میں راولاکوٹ کے قریب واقع ڈرگ عیدگاہ کے علاقے کو مظاہرین سے بالکل صاف کروانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب مظاہرین کی جانب سے پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر براہِ راست فائرنگ کی گئی۔

حکام کے مطابق:

سیکیورٹی فورسز نے ابتدائی طور پر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور مسلح حملوں کے باوجود جوابی فائرنگ نہیں کی۔

آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک بکتر بند گاڑی (APV) کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، تاہم بم پروف ڈیزائن کی وجہ سے گاڑی محفوظ رہی۔

انتظامیہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر فورسز پر حملے نہ رکے تو پوزیشن سنبھالنے اور ذاتی دفاع کے لیے جوابی فائرنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔

دوسری جانب، کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے رینجرز اور پولیس پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کارکنان عیدگاہ گراؤنڈ میں پرامن طریقے سے دھرنا دیے بیٹھے تھے کہ اچانک فورسز نے ان پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کی بھاری شیلنگ اور مبینہ فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد کارکنان زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ یہ مظاہرین آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے کے تحت پورے خطے میں لانگ مارچ کر رہے ہیں۔

15 ہلاکتیں اور نظامِ زندگی مکمل معطل
اس سنگین بحران کے باعث اب تک مجموعی طور پر 15 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں 4 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ بدامنی کی یہ لہر اب پونچھ ڈویژن سے نکل کر آزاد کشمیر کے دیگر بڑے اضلاع تک پھیلتی جا رہی ہے۔

مظاہرین نے احتجاجاً کہوٹہ-راولاکوٹ ہائی وے کو بڑے پتھروں اور درختوں کے تنے رکھ کر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا ہے، جس سے آمدورفت کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کئی حساس علاقوں میں ایندھن (پیٹرول و ڈیزل) کی سپلائی کو بھی اسٹریٹجک طور پر روک دیا ہے۔

راشن، آٹے اور پیٹرول کا شدید بحران
شہروں میں پینک بائینگ اور قلت: راولاکوٹ، دارالحکومت مظفرآباد، حویلیاں اور گردونواح کے اضلاع میں اشیائے خوردونوش، پیٹرول، سبزیوں اور آٹے کی شدید ترین قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کاروباری مراکز مکمل بند ہیں اور ٹرانسپورٹ کا نیٹ ورک ٹوٹ چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اعتراف کیا ہے کہ شہریوں نے خوف کے مارے راشن ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ بحران اس حد تک سنگین رخ اختیار کر جائے گا۔

امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے پولیس نے شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ریت کے تھیلوں کے بنکرز، عارضی چوکیاں اور لوہے کی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

عارضی رہنماؤں کے خلاف سخت قانونی ایکشن
حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد وفاقی وزارتِ داخلہ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے تمام مرکزی ارکان اور فعال کارکنوں کے نام پاکستان کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کرنے کی باضابطہ سفارشات بھیج دی ہیں تاکہ انہیں ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی، حکومت نے روپوش اور زیرِ زمین جانے والے کمیٹی کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین (1 کروڑ) روپے انعام کا بھی باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں