لاہور: سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان دنوں پنجاب کے ہسپتالوں میں صفائی اور سینیٹیشن کے حوالے سے ایک نئے ٹیکس پر گرما گرم بحث جاری ہے، جسے عوامی حلقوں اور انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ٹوائلٹ ٹیکس کا نام دیا جا رہا ہے۔ نجی ہسپتالوں کو بھیجے جانے والے ان نوٹسز کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، تاہم حقیقت اس سے مختلف ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل دعویٰ اور ہسپتالوں کے بلز
میڈیا رپورٹس کے مطابق، واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) نے رحیم یار خان کے مختلف نجی ہسپتالوں اور کلینکس کو نوٹسز جاری کیے ہیں، جن میں فی بیت الخلا (Per Toilet) 2,500 روپے کے حساب سے چارجز مانگے گئے ہیں۔
مبینہ طور پر جن ہسپتالوں کو یہ بل موصول ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
لالہ اقبال اسپتال: 15 بیت الخلاء کی بنیاد پر ماہانہ 37,500 روپے کا بل جاری کیا گیا۔
نصیر میڈیکل کمپلیکس: 17 بیت الخلاء کی موجودگی پر 62,500 روپے کا نوٹس بھیجا گیا۔
ڈاکٹر ہسپتال اور ٹراما سنٹر: انتظامیہ کو مجموعی طور پر 12,500 روپے کا بل موصول ہوا۔
ان چارجز کی عدم ادائیگی پر ایک نجی سرجیکل کلینک کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ بھی درج کروایا گیا ہے، جس نے اس تنازع کو مزید ہوا دی۔
واسا (WASA) کی وضاحت: یہ ’ٹوائلٹ ٹیکس‘ نہیں ہے!
اس پورے معاملے پر عوامی ردِعمل اور افواہوں کے بعد واسا کے ڈپٹی ڈائریکٹر عامر نوید کا باضابطہ موقف سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عوام میں پھیلائی جانے والی یہ بات درست نہیں کہ حکومت نے باتھ روم استعمال کرنے پر کوئی نیا ٹیکس لگا دیا ہے۔
واسا حکام کا اصل مؤقف: “یہ کوئی ’ٹوائلٹ ٹیکس‘ نہیں ہے بلکہ دراصل یہ سیوریج سروس فیس (ٹیکس) ہے، جس کی منظوری صوبائی کابینہ نے باقاعدہ قانون کے تحت دے رکھی ہے۔ یہ محصول صرف نجی و تجارتی اداروں اور ہسپتالوں پر لاگو ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پر گندا پانی پیدا کرتے ہیں اور شہری سینیٹیشن سسٹم کا استعمال کرتے ہیں۔ گاڑیوں کے شورومز پر سروس اسٹیشن فیس کی طرح، ہسپتالوں میں گندے پانی کے اخراج کا اندازہ لگانے کے لیے واش رومز کی تعداد کو ایک پیمانہ (Criteria) بنایا گیا ہے تاکہ کمرشل زون میں صفائی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔”
نتیجہ: افواہوں سے بچیں
موجودہ شواہد اور سرکاری بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نے عوام یا مریضوں کے لیے باتھ روم کے استعمال پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا۔ یہ نجی اور تجارتی صحت کے مراکز پر عائد کیا جانے والا ایک باقاعدہ کمرشل سیوریج بل ہے، جسے ٹوائلٹ کی تعداد کے حساب سے کیلکولیٹ کیا گیا ہے۔ شہریوں اور نجی اداروں کی جانب سے اس الجھن کو دور کرنے کے لیے محکمہ کی طرف سے مزید واضح گائیڈ لائنز جاری کرنے کا مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

