لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک اور ماحول دوست بنانے کے لیے ایک بڑا اور جدید سائنسی قدم اٹھایا ہے۔ اتوار کے روز وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی پر مبنی لیکوڈ ٹری (مائع درخت) کے انقلابی منصوبے کو مزید وسعت دینے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔
مائکروالجی ٹیکنالوجی اور لاہور منتقلی
پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کے زیرِ انتظام چلنے والا یہ منصوبہ ایک جدید حیاتیاتی نظام پر کام کرتا ہے۔ ایسے گنجان آباد شہری علاقے جہاں روایتی درختوں کی شجرکاری کے لیے جگہ محدود ہوتی ہے، وہاں یہ مائع درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تیزی سے جذب کرنے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ‘مائکروالجی’ (Microalgae) کا استعمال کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کے مطابق:
اس توسیعی منصوبے کے تحت پاکستان کا پہلا ای پی اے سے تصدیق شدہ لیکوڈ ٹری یونٹ فیصل آباد سے صوبائی دارالحکومت لاہور منتقل کیا جائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کو موثر بنانے کے لیے کراچی سے لے کر خیبر تک ملک کے مختلف جغرافیائی خطوں سے مائکروالجی کی 100 سے زائد نایاب اقسام کو اکٹھا کیا گیا ہے۔
عوامی مقامات اور شاپنگ مالز میں تنصیب
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں شہروں کے گنجان آباد اور تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ہوا کو صاف رکھنے والے یہ مصنوعی مائع درخت بڑے شاپنگ مالز کے اندرونی حصوں (Indoor) کے ساتھ ساتھ اہم ترین آؤٹ ڈور عوامی مقامات اور چوراہوں پر نصب کیے جائیں گے تاکہ عام شہریوں کو سانس لینے کے لیے صاف ہوا میسر آ سکے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا اہم بیان: “یہ اقدام کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج اور سموگ کی خطرناک سطح سے نمٹنے کے لیے ایک سائنسی، عملی اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تجارتی اور عوامی علاقوں میں لگائے گئے یہ مصنوعی پودے اور درخت شہری مراکز کے ماحولیاتی حالات میں نمایاں اور مثبت تبدیلی لائیں گے۔”
ای پی اے (EPA) کا آلودگی کے خلاف گرینڈ کریک ڈاؤن
مائع درختوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ، محکمہ تحفظِ ماحول (EPA) نے صوبے بھر میں انسدادِ آلودگی مہم کو بھی تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حالیہ دنوں میں درج ذیل سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں:
چربی پگھلانے والے یونٹس کا خاتمہ: فضائی آلودگی پھیلانے والے 36 چربی پگھلانے والے یونٹس کو مسمار جبکہ 6 دیگر کو سیل کر کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
پلاسٹک فری زونز کا قیام: شہر کے بڑے اور مرکزی بازاروں میں 75 مائیکرون سے کم موٹائی والے پلاسٹک کے تھیلوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
گرین بفر زونز: صنعتی علاقوں کے ارد گرد لازمی شجرکاری مہم اور گرین بفر زونز قائم کرنے کے لیے درختوں کی کٹائی پر سخت ریگولیٹری کنٹرول نافذ کر دیا گیا ہے۔

