ایوین: کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ وہ فرانس کے شہر ایوین میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی مسائل پر براہِ راست بات چیت کی توقع نہیں کر رہے۔ دونوں رہنما پیر سے بدھ تک جاری رہنے والے اس اہم ترین عالمی اجلاس میں آمنے سامنے ہوں گے۔
پرنسپل مذاکرات کاروں پر بھروسہ اور جی 7 کا ایجنڈا
اتوار کے روز آئرلینڈ کے کاؤنٹی میو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ تجارتی امور پر بنیادی اور تفصیلی گفتگو دونوں ممالک کے اہم فریقوں اور ٹیموں کے درمیان ہی جاری رہنی چاہیے۔ مارک کارنی نے اپنے آئرلینڈ کے دورے کے دوران وہاں کے رہنما (Taoiseach) مائیکل مارٹن سے بھی اہم ملاقات کی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے شدید تنازعات کے پیشِ نظر، اس بار جی 7 اجلاس میں بھاری جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) عنصر حاوی رہے گا، جس کی وجہ سے تجارتی معاملات حاشیے پر رہنے کا امکان ہے۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی روابط
تجارتی فائل پر کینیڈا کی جانب سے وزیر تجارت ڈومینک لی بلینک اور جینس چاریٹ امریکی تجارتی مذاکرات کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ حال ہی میں ٹورنٹو میں منعقدہ ایک سمٹ کے دوران ڈومینک لی بلینک نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب اور تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے ساتھ متعدد بار بات چیت کی ہے تاکہ کینیڈین پالیسیوں کے بارے میں امریکی شکایات اور نان ٹیرف رکاوٹوں (Non-tariff barriers) کو دور کیا جا سکے۔
لی بلینک نے بتایا کہ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور جیمیسن گریر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ یو ایس ایم سی اے (USMCA) مذاکرات کے متوازی دونوں ممالک دوطرفہ مسائل حل کر سکتے ہیں۔
یو ایس ایم سی اے (USMCA) معاہدے کی تجدید کا چیلنج
کینیڈین وزیر اعظم کا یہ بیان ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آیا ہے جب 1 جولائی کو یو ایس-میکسیکو-کینیڈا معاہدے (USMCA) کی نظرثانی کی اہم تاریخ مقرر ہے اور تینوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات تیز ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن حال ہی میں انہوں نے اس کی تجدید نہ کرنے کا اشارہ دے کر کینیڈا اور میکسیکو کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔
ڈومینک لی بلینک کا اہم بیان: “صدر ٹرمپ کا انداز ایسا نہیں ہے جو آپ کو مستقل یقین دہانی کرائے۔ ہمارا کام اس حقیقت کو قبول کرنا ہے اور یہ یقینی بنانا ہے کہ کینیڈین بزنس اور کینیڈا کی معیشت اس صورتحال میں بھی آگے بڑھے۔ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ کینیڈا کے طویل المدتی اقتصادی مفادات، جو امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات سے جڑے ہیں، بہترین پوزیشن میں رہیں۔”

