چکوال میں سی سی ڈی کی مبینہ فائرنگ: آسٹریلوی پاکستانی خاندان کی 9 سالہ بچی جاں بحق، اہلکار گرفتار

چکوال: پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کو انکاؤنٹرز اور ماورائے عدالت قتل کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع چکوال میں ایک انتہائی دردناک اور پریشان کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں سی سی ڈی اہلکاروں کی مبینہ غلط فائرنگ کے نتیجے میں آسٹریلیا سے آئے ہوئے اوورسیز پاکستانی خاندان کی 9 سالہ معصوم بچی جاں بحق ہو گئی ہے۔ واقعے میں ملوث اہلکار کو گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

کارروائی کا پسِ منظر اور ہلاکت خیز فائرنگ
تفصیلات کے مطابق، عدیل احمد اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان اور دو بچوں، 9 سالہ ہانیہ اور 10 سالہ عفان کے ہمراہ سفر پر تھے کہ اچانک ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے عدیل احمد کی سفید کار کو فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا اور آن لائن ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید رنگ کی اس فیملی کار پر درجن بھر گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔ اس ہولناک فائرنگ کے نتیجے میں:

ہانیہ (9 سال): موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

عدیل احمد (والد) اور عفان (بیٹا): شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹر سدرہ (والدہ): معجزانہ طور پر گولیوں سے محفوظ رہیں لیکن شدید صدمے (ٹراما) میں ہیں۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے سی سی ڈی اہلکار کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آپریشن کے دوران شناخت کے لازمی پروٹوکولز کی خلاف ورزی کیوں کی گئی۔

اصل ملزمان کی ہلاکت اور جرائم کا ریکارڈ
خاندان پر فائرنگ کے اس واقعے کے بعد، سی سی ڈی فورس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے والے دو اصل مشتبہ ڈاکوؤں کا سراغ لگایا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان ایک مسلح مقابلے کے دوران مارے گئے، جن کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی ہے:

محمد عباس: ساکن شاہدرہ، لاہور۔

محمد فیاض: ساکن فیروز والا، شیخوپورہ۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں ملزمان بدھ کی رات ہونے والی متعدد ڈکیتیوں میں ملوث تھے اور شبہ ہے کہ انہوں نے ہی اس آسٹریلوی خاندان کو بھی پہلے لوٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس گروہ کا مجرمانہ ریکارڈ کافی طویل ہے، جس میں 2021 کے چکوال ڈکیتی کیسز، رواں ماہ گوجرانوالہ میں سی سی ڈی افسر پر فائرنگ، شیخوپورہ میں موٹرسائیکل چھیننا اور کھیوڑہ میں دکاندار سے لوٹ مار شامل ہے۔

ایچ آر سی پی (HRCP) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اور سنگین انکشافات
اس ہولناک واقعے نے پنجاب میں سی سی ڈی کے آپریشنز کے طریقہ کار پر ایک بار پھر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے ایک حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرتے ہوئے سی سی ڈی مقابلوں کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار: “ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق، سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے اس خصوصی یونٹ کی زیرِ قیادت سال 2025 میں صرف 8 ماہ کے مختصر عرصے کے دوران پنجاب بھر میں 670 پولیس مقابلے ہوئے، جن میں مجموعی طور پر 924 مشتبہ افراد مارے گئے۔ کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان انکاؤنٹرز کا مخصوص پیٹرن ماورائے عدالت قتل (Extrajudicial Killings) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔”

اگرچہ پنجاب کی سیاسی قیادت صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کا سہرا سی سی ڈی کے سر باندھتی ہے، لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی نے ہلاکتوں کے اس بڑے پیمانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ عدالتی انکوائری پر زور دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں