بارات میں دلہن کا ڈانس دیکھ کر سسرال آگ بگولا، دولہا شادی ادھوری چھوڑ کر بارات واپس لے گیا

ہریانہ: شادی بیاہ کے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا اور منفرد انداز اپنانا اب ایک عام بات بن چکا ہے، لیکن بھارتی ریاست ہریانہ میں ایک ایسا چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں انٹری کے وقت دلہن کا ڈانس ہی اس کی شادی ٹوٹنے کی بڑی وجہ بن گیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو سامنے آتے ہی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ہائی انرجی ڈانس اور سسرال کا شدید غصہ
شادی کی تقریب روایتی انداز میں جاری تھی اور مہمان دلہن کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ جب دلہن ہال میں داخل ہوئی تو اس نے عام روایتی واک کے بجائے تیز میوزک پر ہائی انرجی ڈانس مووز اور منفرد انداز کے ساتھ دھماکے دار انٹری لی۔

دلہن کو اس طرح سرعام رقص کرتے دیکھ کر لڑکے کے والد اور بڑے بھائی شدید غصے میں آ گئے اور انہوں نے اس بے باک رویے پر موقع پر ہی سخت اعتراض اٹھایا۔

تلخ کلامی اور شادی کی منسوخی
دلہن کے ڈانس پر شروع ہونے والا یہ اعتراض دیکھتے ہی دیکھتے دونوں خاندانوں کے درمیان ایک سنگین اور گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گیا۔ بات اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ:

دونوں اطراف سے معززین نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دولہا نے شادی کی تمام رسومات کو ادھورا چھوڑ دیا۔

دولہا کا خاندان شادی منسوخ کرتے ہوئے بارات کو واپس لے کر مہمانی ہال سے روانہ ہو گیا۔

سوشل میڈیا صارفین کی تقسیم شدہ آراء
اس واقعے کی ویڈیو اور خبر جیسے ہی انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی، سوشل میڈیا صارفین نے اس پر اپنی مختلف آراء کا اظہار شروع کر دیا ہے۔

نوجوانوں اور ہمدردوں کا مؤقف: “صارفین کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ شادی کی تقریب لڑکی کی زندگی کا سب سے بڑا دن ہوتا ہے اور اسے اپنی اس خوشی کا کھل کر اظہار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ محض ڈانس کرنے کی وجہ سے پوری شادی کو منسوخ کر دینا لڑکی کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور یہ عمل معاشرے کی دقیانوسی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔”

اس کے برعکس، روایتی سوچ رکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ شادی بیاہ جیسے خاندانی اجتماعات میں اقدار، تہذیب اور بڑوں کے احترام کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ بزرگوں کے سامنے اس طرح کا انداز بعض اوقات بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔

بلاشبہ شادیاں خوشی کا نام ہیں، لیکن جب خاندانی روایات اور جدید طرزِ زندگی آپس میں ٹکراتے ہیں، تو خوشی کا ایک لمبا لمس بھی پورے خاندان کے لیے عمر بھر کا پچھتاوا بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں