آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ، صدر ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آ گیا

تہران: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ شدید کشیدگی کے دوران ایک بڑا واقعہ سامنے آیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی حساس سمجھے جانے والے علاقے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کا ایک جدید ترین امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر (حملہ آور گن شپ) گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

عملے کی بحفاظت واپسی اور صدر ٹرمپ کی تصدیق
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے تمام ارکان کو کامیابی کے ساتھ ریسکیو کر لیا گیا ہے اور وہ شدید زخموں سے محفوظ رہے۔ ابھی تک اس کریش کے ارد گرد کے حالات اور اصل وجوہات مکمل واضح نہیں ہو سکیں، جس کے لیے امریکی عسکری حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پائلٹس اور عملے کے محفوظ ہونے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بتایا:

“ہیلی کاپٹر حادثے میں ہمارا تمام عملہ اور پائلٹس بالکل محفوظ ہیں اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔”

“امریکی محکمہ دفاع اس حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور ہم کل اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرنے جا رہیے ہیں۔”

حساس بحری گزرگاہ اور عارضی جنگ بندی کو خطرہ
یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تہران اور تل ابیب کے درمیان دن دہاڑے ہونے والے فائرنگ کے تبادلے نے اپریل میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے قریب ہونے کی وجہ سے اس واقعے نے عالمی سطح پر تیزی سے توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ اسی راستے سے عالمی مارکیٹ کے لیے تیل کی سپلائی کا ایک بہت بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اگرچہ ابھی تک اس حادثے کو کسی دشمنانہ کارروائی یا حملے سے جوڑنے کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا، لیکن خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے کئی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی غیر ملکی خبر رساں اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے اس واقعے کو تسلیم کیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

تنازع میں اپاچی ہیلی کاپٹرز کا کردار
سمندری راستوں کی نگرانی: جاری تنازعے میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر بحری راستوں کی نگرانی اور ایران پر دباؤ کو برقرار رکھنے کی امریکی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، جنگ کے دوران ایرانی ڈرونز کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات (UAE) سمیت دیگر علاقائی اتحادیوں نے بھی اس طرز کے طیارے تعینات کر رکھے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے اس وسیع تر تنازعے نے پہلے ہی عالمی معیشت کو شدید جھٹکے دیے ہیں، جس کے باعث توانائی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک میں روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہو رہی ہیں۔ سفارتی سطح پر طویل مدتی امن معاہدے کی کوششیں بار بار تعطل کا شکار ہو رہی ہیں، جس سے خطہ بدستور جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں