واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے سنگین بحران کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو ایک غیر معمولی اور انتہائی سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے جارحانہ فوجی حملے جاری رکھے، تو وہ خطے اور دنیا میں بالکل تنہا ہو سکتا ہے۔ اس بیان نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان پسِ پردہ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کو واضح طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
نیتن یاہو کو وارننگ اور حملوں کے پیمانے میں کمی
ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے مزید کشیدگی کو روکنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کرنے کے اپنے حتمی فیصلے کو آخری لمحات تک خفیہ رکھا۔
اس حوالے سے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
حملے کے پیمانے میں کمی: ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی سخت سفارتی مداخلت کے ذریعے اسرائیلی حملے کے پیمانے (Scale) کو کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
علاقائی جنگ سے گریز کی ہدایت: انہوں نے اسرائیلی رہنما پر زبردست زور دیا ہے کہ وہ اس محاذ آرائی کو پورے پیمانے پر ایک خوفناک علاقائی جنگ میں تبدیل کرنے سے گریز کریں۔
پانچ مسلم ممالک کا رابطہ اور امریکی سفارت کاری
امریکی صدر نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانچ اہم ممالک نے ان سے براہِ راست رابطہ کیا ہے۔ ان ممالک نے واشنگٹن پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ مزید اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو فوری رکوائے اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کو تحفظ فراہم کرے۔
دوسری جانب، ایران نے بھی مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل مزید حملے روک دیتا ہے تو وہ بھی اپنی فوجی کارروائیاں بند کرنے پر تیار ہے، جس سے خطے میں سفارت کاری کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔
بیروت پر حملے کے پلان پر شدید جھڑپ: “صدر ٹرمپ کی اس سے قبل بیروت پر حملہ کرنے کے اسرائیلی منصوبے پر بھی نیتن یاہو کے ساتھ شدید جھڑپ ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو یہ حملہ منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور لبنان میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کا یہ ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے، جو اس کی بین الاقوامی تنہائی کو مزید گہرا کر دے گا۔”
جنگ بندی کا مشاہدہ اور بدستور برقرار تناؤ
اگرچہ اس وقت ایران اور اسرائیل دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگ بندی پر عمل کر رہے ہیں اور معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں، لیکن خطے میں عدم استحکام کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ تہران نے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں جبکہ اسرائیل نے اسکول اور کاروباری مراکز کھول دیے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے کو سخت ترین دھمکیاں دے رہے ہیں اور ایک دوسرے پر مصروفیت کے اصول (Rules of Engagement) کو زبردستی تبدیل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
