ٹریکس لاجسٹک کو بڑا جھٹکا: پی ٹی اے کا لائسنس منسوخ کرنے کا انتباہ، 30 دن کا الٹی میٹم جاری

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹریکس لاجسٹک ٹریکرز (Trax Logistics Trackers) کے خلاف سخت پوزیشن لیتے ہوئے کمپنی کے لائسنس کی منسوخی کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ٹیلی کام ریگولیٹر نے کمپنی کو 30 دن کا حتمی الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی وہیکل ٹریکنگ سروسز (VTS) کے لائسنس کی تمام قانونی شرائط کو فوری پورا کرے، ورنہ 7 جنوری 2016 کو جاری کردہ اس کا لائسنس خودکار طریقے سے منسوخ کر دیا جائے گا۔

ریگولیٹری خلاف ورزیاں اور لوکل سمز (SIMs) کا تنازعہ
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ‘TechJuice’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پی ٹی اے نے ٹریکس لاجسٹک کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ تمام بقایا کاغذی اور دفتری کارروائیوں کو مکمل کرے اور بغیر کسی تاخیر کے ‘کامنسمنٹ سرٹیفکیٹ’ (آغازِ سروس کا سرٹیفکیٹ) حاصل کرے۔

قوانین کے تحت سب سے بنیادی اور لازمی شرط پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے سیکشن 23 کی تعمیل ہے:

اس قانون کے تحت ٹریکنگ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے پی ٹی اے سے لائسنس یافتہ مقامی موبائل آپریٹرز (جیسے جاز، زونگ، ٹیلینار، یو فون) کی سمز کا استعمال کرنا قانونی طور پر فرض ہے۔

موجودہ ضوابط کے تحت، VTS آپریٹرز کو لائسنس ملنے کے ایک سال کے اندر باقاعدہ کمرشل آپریشنز شروع کرنے ہوتے ہیں، لیکن کمپنی نے ان ٹائم لائنز کو طویل عرصے تک لچکدار مانا جس سے یہ معاملہ سالہا سال لٹکتا چلا گیا۔

معائنہ رپورٹ میں سامنے آنے والی سنگین خامیاں
15 مئی 2025 کو پی ٹی اے کی جانب سے کیے گئے ایک تفصیلی معائنے (Inspection) نے ریگولیٹر کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی آپریشنل تیاریوں کے مروجہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہی اور درج ذیل خامیاں پائی گئیں:

ناقص ٹریکنگ سسٹم: کمپنی معائنے کے دوران ایک فعال اور موثر لائیو ٹریکنگ سسٹم کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔

لوکل آپریٹرز سے معاہدے کا فقدان: مقامی سیلولر کمپنیوں کے ساتھ کوئی باضابطہ کاروباری معاہدہ موجود نہیں تھا۔

شکایات کا ناقص نظام: کسٹمرز کی شکایات کے ازالے کے لیے کوئی مناسب کسٹمر کیئر طریقہ کار نہیں بنایا گیا تھا۔

نیٹ ورک انٹیگریشن کی کمی: کمپنی نیٹ ورک انٹیگریشن اور قابلِ تصدیق IMEI کی تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر رہی، جبکہ سروس کے معاہدوں کی منظوری اور تجارتی ضابطہ عمل کا ریکارڈ بھی غائب تھا۔

ٹریکس لاجسٹک کا مؤقف اور پی ٹی اے کا ردِعمل
بین الاقوامی رومنگ سمز کا استعمال: “ٹریکس لاجسٹک کے حکام نے اپنے کاروباری ماڈل کا دفاع کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ ان کا ٹریکنگ سسٹم بنیادی طور پر سرحد پار لاجسٹکس (Cross-Border Logistics) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پورا نظام عالمی شراکت داروں کی جانب سے فراہم کردہ بین الاقوامی رومنگ سمز کے ذریعے آپریٹ کیا جاتا ہے، اس لیے انہیں مقامی ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ الگ سے معاہدے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”

تاہم، پی ٹی اے نے کمپنی کے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ریگولیٹر نے واضح الفاظ میں اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر کام کرنے والی کوئی بھی سروس ہر حال میں قومی دائرہ اختیار (National Jurisdiction) میں آتی ہے۔ اس لیے کمپنی کو ملکی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی اور مقامی موبائل آپریٹرز کے ساتھ لازمی انتظامات کو یقینی بنانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں