بھمبر سے لانگ مارچ کا آغاز: مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کے درمیان مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے بھمبر سے اپنے احتجاجی لانگ مارچ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ کالعدم تنظیم کی جانب سے شروع کیے جانے والے اس مارچ کے باعث ریاست کے متعدد اضلاع میں رکاوٹوں اور کشیدگی کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔

لانگ مارچ کا روٹ اور شرکاء کی پیش قدمی
سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق، اس وقت تقریباً 1800 سے 2000 کے قریب شرکاء اس احتجاجی مارچ کا حصہ ہیں جو مرحلہ وار مختلف علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

مظاہرین کی پیش قدمی کا روٹ درج ذیل علاقوں پر مشتمل ہے:

ابتدائی پوائنٹس: مظاہرین کے گروپس برنالہ، کوٹلی اور اس کے قریبی علاقوں سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

مرکزی روٹ: یہ کارواں آہستہ آہستہ میرپور اور راولاکوٹ کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔

حتمی ہدف: یہ مارچ میرپور سے ہوتا ہوا راولاکوٹ اور پھر دارالحکومت مظفرآباد پہنچے گا، جس کے پیشِ نظر سیکیورٹی فورسز نے تمام اہم شاہراہوں پر گشت بڑھا دیا ہے۔

مظفرآباد میں نظامِ زندگی مفلوج اور دفعہ 144 کا نفاذ
لانگ مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی دارالحکومت مظفرآباد میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ شہر بھر کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز اور بازار مکمل طور پر بند ہیں۔

شہر کی تازہ ترین صورتحال کی تفصیلات:

سرکاری دفاتر: دفاتر سرکاری طور پر کھلے ضرور ہیں، لیکن ملازمین اور عملے کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ٹرانسپورٹ اور فیول: پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ مکمل جام ہو کر رہ گیا ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر شہر کے تمام پیٹرول پمپس بند کر دیے گئے ہیں۔

عوامی مجمع: شہر میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود، نوجوانوں کے مختلف گروہ اہم ترین چوراہوں پر جمع ہو رہے ہیں، جس سے انتظامیہ کے لیے ہجوم پر قابو پانے کے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔

تاجروں کا مؤقف اور معیشت کو اربوں کا نقصان
حکومت کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد زمینی سیاسی ماحول مزید سنگین ہو گیا ہے۔ تاہم، مظفرآباد کے مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ بندش کسی زبردستی کا نتیجہ نہیں بلکہ رضاکارانہ ہے۔

مقامی دکاندار کا بیان: “ہم نے اپنی دکانیں کسی دباؤ میں نہیں بلکہ اپنی مرضی سے بند کی ہیں۔ جب تک ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے یا کمیٹی کی طرف سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوتا، ہم یہ ہڑتال جاری رکھیں گے۔”

تجارتی تنظیموں کے اندازے کے مطابق، اس جاری شٹ ڈاؤن اور پہیہ جام کی وجہ سے خطے کی معیشت کو روزانہ تقریباً 1 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس ہڑتال نے سب سے زیادہ ہوٹل اور سروس سیکٹر میں روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے ہزاروں دیہاڑی دار مزدوروں کو متاثر کیا ہے، جو گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں اور ان کی آمدنی کے ذرائع منقطع ہو چکے ہیں۔

اگرچہ مظفرآباد شہر میں فی الحال امن و امان قابو میں ہے، لیکن آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات ملی جلی ہیں، اور لانگ مارچ کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی سیکیورٹی کی صورتحال پر متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں