عمر کوٹ: 12 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کے الزام میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر گرفتار

عمر کوٹ: سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں پولیس نے ایک افسوسناک واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کو 12 سالہ معصوم بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام نے ملزم کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

وائرل ویڈیو اور ملزم کی شناخت
یہ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک مقامی ٹیوشن سینٹر میں بچی کے ساتھ کی جانے والی بدتمیزی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس فوٹیج میں ملزم کی شناخت ممتاز بھٹی کے نام سے ہوئی، جسے واضح طور پر غیر اخلاقی حرکت میں ملوث دیکھا جا سکتا ہے۔

واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

متاثرہ لڑکی کے بھائی نے پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کروائی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم ممتاز بھٹی کے خلاف جنسی زیادتی کی کوشش کا مقدمہ درج کیا۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا۔

ملزم ممتاز بھٹی محکمہ سماجی بہبود حکومتِ سندھ (Social Welfare Department Sindh) میں بطور چائلڈ پروٹیکشن آفیسر ملازم ہے۔

ملزم کا مؤقف اور جاری تفتیش
ملزم کا دعویٰ: دوسری جانب گرفتار ملزم ممتاز بھٹی نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے منفرد دعویٰ کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو جعلی ہے اور اسے مصنوعی ذہانت (AI ٹیکنالوجی) کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی فارنزک اور صداقت کا تعین کرنے سمیت واقعے کے تمام پہلوؤں کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

ٹیکسلا کا ماضی کا پریشان کن واقعہ
واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب کے شہر ٹیکسلا سے بھی ایک ایسا ہی انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا تھا جہاں ایک مدرسے کے 14 سالہ طالب علم کو استاد نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، نویں جماعت کا طالب علم جو گوہد موڑ، ٹیکسلا کے ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم تھا، 28 اپریل 2026 کی شام کو بدفعلی کا شکار ہونے کے بعد غیر معمولی حالت میں گھر واپس آیا تھا۔ لڑکے کے انکشاف پر مدرسے کے استاد زین علی کے خلاف مقدمہ درج کر کے پولیس تفتیش شروع کر چکی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں