15 جون کے بعد ملک گیر ایندھن ہڑتال کا انتباہ، پیٹرول پمپ مالکان کا حکومت کو الٹی میٹم

اسلام آباد: پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت کے سامنے اپنا 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز (مطالبات کا مسودہ) رکھ دیا ہے، جس کے بعد حکام اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

15 جون کے بعد ملک گیر ہڑتال کا الٹی میٹم
ایسوسی ایشن کے مطابق، اگلے 24 گھنتوں کے اندر یہ تمام مطالبات باضابطہ طور پر حکومت اور متعلقہ اعلیٰ اداروں کو پیش کر دیے جائیں گے۔ گروپ نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے، تو وہ 15 جون کے بعد ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی معطل کر کے مکمل ہڑتال کر دیں گے۔ اس اعلان نے ملک میں ایندھن کی سپلائی چین میں بڑے خلل اور ممکنہ بحران کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

چارٹر آف ڈیمانڈز: پیٹرول پمپ مالکان کے اہم مطالبات
ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کیے گئے 19 نکاتی مطالبات میں درج ذیل تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں:

فیصد کی بنیاد پر کمیشن: پمپس کے کمیشن کا تعین موجودہ فکسڈ ڈھانچے کے بجائے فیصد (Percentage) کی بنیاد پر کیا جائے۔

معاہدوں کا خاتمہ: موجودہ لیز اور فرنچائز کے تمام معاہدوں کو فوری ختم کیا جائے، اور فارم K کو براہِ راست ڈیلر یا مالک کے نام پر جاری کیا جائے۔

ریفائنریوں سے براہِ راست خریداری: پیٹرول پمپ مالکان کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بجائے براہِ راست ریفائنریوں سے پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دی جائے۔

ماہانہ قیمتوں پر منتقلی: پیٹرولیم کی قیمتوں پر نظرثانی کے عمل کو ہفتہ وار سے دوبارہ ماہانہ بنیادوں پر منتقل کیا جائے، تاکہ مارکیٹ کے حالات مستحکم رہ سکیں۔

اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن اور دیگر قانونی مطالبات
بنیادی کاروباری مطالبات کے ساتھ ساتھ ایسوسی ایشن نے سیکیورٹی اور غیر قانونی فروخت کے متبادل راستوں کو بند کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

اسمگلنگ کا خاتمہ اور احتساب: “ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں پیٹرولیم کی اسمگلنگ کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے، غیر قانونی سپلائی روٹس کو بند کیا جائے اور اس دھندے میں سہولت کاری کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے اثاثوں کی چھان بین کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔”

اس کے علاوہ، ڈیلرز کے نام تمام این او سی (NOC) جاری کرنے، شارٹ ڈیلیوری اور نقصانات کی تلافی کے لیے آڈٹ کرانے، اور کمیشن کے تعین کے لیے ایک خودکار طریقہ کار متعارف کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اوگرا (OGRA) اور متعلقہ ضوابط میں پیٹرول پمپ مالکان کے حقوق کی واضح تعریف اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے، جبکہ آبادی کی بنیاد پر نئے پمپس کے قیام کے لیے شفاف پالیسی بنا کر کمپنی سے چلنے والے فیول اسٹیشنوں کو دیا جانے والا ترجیحی سلوک واپس لیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں