ریئل ٹائم میں اسکام کالز سے چھٹکارا، گوگل نے متعارف کرا دیا نیا AI پروٹیکشن ٹول

لاہور: موبائل فون صارفین کو روزمرہ زندگی میں اسکام کالز کا سامنا ایک عام اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے، خاص طور پر اب جب دھوکہ دہی کرنے والے نمبروں کی جعل سازی اور AI وائس کلوننگ جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن اب سرچ انجن کی سب سے بڑی عالمی کمپنی گوگل اپنی آفیشل فون ایپ میں ایک نیا AI سے چلنے والا حفاظتی فیچر متعارف کرا رہی ہے، جو ریئل ٹائم (حقیقی وقت) میں جعلی یا نقالی کالوں کا پتہ لگا کر صارفین کو کسی بھی مالی یا ذاتی نقصان سے پہلے ہی خبردار کر دے گا۔

AI آوازوں کی نقل اور جعل سازی کا بڑھتا ہوا خطرہ
پاکستان سمیت دنیا بھر میں نقالی کے گھوٹالے دن بدن پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ دھوکہ دہی کرنے والے انٹرنیٹ بیسڈ سسٹمز کے ذریعے کالز کو اس طرح روٹ کرتے ہیں کہ اسکرین پر آپ کے کسی فیملی ممبر، دوست یا کسی معتبر ادارے کا اصل نمبر ظاہر ہوتا ہے۔

اس خطرے کو مزید ہولناک بنانے میں AI ٹولز کا بڑا ہاتھ ہے جو انسانی آوازوں کی ہوبہو نقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اب عام صارفین کے لیے کسی کال کے دوران اصل انسانی آواز اور AI سے تیار کردہ آواز میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

گوگل کا ‘سائلنٹ ویریفیکیشن سسٹم’ کیسے کام کرتا ہے؟
اس نئے فراڈ سے نمٹنے کے لیے گوگل نے “سائلنٹ ویریفیکیشن سسٹم” (Silent Verification System) متعارف کرایا ہے۔ اس کا طریقہ کار درج ذیل ہے:

جب دونوں شرکاء اپنے فون میں ‘Phone by Google’ ایپ استعمال کر رہے ہوں گے، تو ان کے آلات پسِ منظر میں خاموشی سے کنکشن کی صداقت کی جانچ کریں گے۔

یہ تصدیقی عمل اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ RCS سگنلز کے ذریعے انجام پاتا ہے۔

یہ پورا عمل انتہائی نجی ہے اور اس کے دوران کسی قسم کا ذاتی ڈیٹا شیئر نہیں کیا جاتا۔

اگر بیک گراؤنڈ چیک میں کوئی مماثلت پاتی جاتی ہے (یعنی کوئی آپ کے محفوظ رابطے کی نقالی کر رہا ہے)، تو ایپ کال کے دوران ہی اسکرین پر ایک ریئل ٹائم وارننگ الرٹ جاری کر دے گی۔

صارفین کے لیے حفاظتی مہلت: اس الرٹ کا بنیادی مقصد صارف کو کوئی بھی حساس معلومات، بینکنگ تفصیلات، پاس ورڈ یا او ٹی پی (OTP) شیئر کرنے سے پہلے رکنے اور سوچنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

یہ فیچر کن فونز پر دستیاب ہوگا؟
گوگل کا یہ سیکیورٹی فیچر بائی ڈیفالٹ (پہلے سے) فعال ہوگا، تاہم صارفین اگر چاہیں تو اسے فون کی سیٹنگز میں جا کر بند بھی کر سکتے ہیں۔ گوگل نے رواں ماہ پکسل (Pixel) ڈیوائسز سے شروع کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر رول آؤٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ فیچر اینڈرائیڈ 12 اور اس سے اوپر کے ورژن والے فونز پر چلے گا۔ دوسرے اینڈرائیڈ صارفین پلے اسٹور سے ‘Phone by Google’ ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اور اسے اپنا ڈیفالٹ ڈائلر سیٹ کر کے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستان میں اسکام کالز کی صورتحال اور پی ٹی اے کی ہدایات
پاکستان میں اس وقت جعلساز جعلی بینک نمائندے، سرکاری افسران، لاٹری اسکیمز اور انٹرنیشنل مسڈ کالز کے ذریعے معصوم شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ مجرم اکثر خوف یا عجلت کا ماحول پیدا کر کے صارفین پر پن کوڈ اور بینکنگ معلومات دینے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ یہی حربہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خلاف بھی سفارت خانوں کی نقالی کر کے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے بارہا شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ نامعلوم کالز اٹھانے سے گریز کریں اور اپنی خفیہ معلومات کبھی بھی کسی سے شیئر نہ کریں۔ ماہرین کے مطابق، اصل بینک اور سرکاری ادارے کبھی بھی فون کال پر صارفین سے او ٹی پی، پن کوڈ یا خفیہ ادائیگیاں نہیں مانگتے، اور عوامی بیداری ہی اس فراڈ کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں