لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں مالک مکان کے بیٹے اور ڈرائیور کی جانب سے 5 ماہ تک مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ سروسز اسپتال میں دم توڑ گئی۔
پانچ ماہ کی درندگی اور غیر قانونی اسقاطِ حمل
پولیس ذرائع کے مطابق، 18 سالہ نوجوان لڑکی ماڈل ٹاؤن میں واقع ایک گھر میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی، جہاں اسے گزشتہ پانچ ماہ سے مسلسل ہوس کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اس مسلسل درندگی کے نتیجے میں جب لڑکی حاملہ ہو گئی، تو ملزمان اسے رائیونڈ کے ایک نجی کلینک لے گئے۔
پرائیویٹ کلینک میں اسقاطِ حمل (Abortion) کے دوران لڑکی کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ گئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر سروسز اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہاں زندگی کی بازی ہار گئی۔
موت سے قبل ویڈیو بیان اور مالکان کا مبینہ دباؤ
حکام کے مطابق، جاں بحق ہونے والی لڑکی نے ہلاکت سے قبل اپنے ویڈیو اور تحریری بیان میں پانچ ماہ کے دوران خود پر ہونے والے ظلم اور درندگی کا تفصیلی انکشاف کیا تھا اور دونوں ملزمان کو نامزد کیا تھا۔
کیس میں اہم موڑ: “موت سے کچھ دیر قبل، مبینہ طور پر لڑکی پر مالکان اور اس کے اپنے والد کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا، جس کے باعث اس نے اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے صرف ڈرائیور کو قصوروار ٹھہرایا اور مالک کے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی۔”
مقدمے میں قتل کی دفعات کا اضافہ اور تفتیش
لڑکی کے بیان تبدیل کرنے کے باوجود لاہور پولیس نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پولیس نے درج مقدمے میں اجتماعی زیادتی کے ساتھ ساتھ اب قتل کی دفعات کا بھی اضافہ کر دیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کروا دیا گیا ہے اور اب پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں سائنسی اور جدید خطوط پر کیس کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ تمام ملوث ملزمان کو عبرت ناک سزا دلائی جا سکے۔
