پاکستان میں مہنگائی 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

پاکستان میں مہنگائی کی شرح 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

مئی 2026 میں افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی کی رفتار میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور مئی 2026 کے دوران افراطِ زر کی شرح گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں قیمتوں میں اضافے کا رجحان مزید مضبوط ہوا ہے۔

ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ

سرکاری رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح اپریل کے مقابلے میں 0.52 فیصد بڑھ گئی۔ یہ اضافہ جون 2024 کے بعد کسی ایک ماہ میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جو عوام کے لیے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

سالانہ افراطِ زر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی

اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 11.66 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یعنی مئی 2025 میں یہ شرح صرف 3.5 فیصد تھی۔ اس نمایاں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اشیائے ضروریہ اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 سے مئی 2026 تک مہنگائی کی اوسط شرح 6.69 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ اپریل 2026 میں سالانہ افراطِ زر 10.89 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جو مئی میں مزید بڑھ گئی۔

شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی کا فرق

رپورٹ میں شہری اور دیہی علاقوں کے اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مئی 2026 کے دوران دیہی علاقوں میں ماہانہ مہنگائی کی شرح میں 0.30 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ شہری علاقوں میں یہ اضافہ 0.68 فیصد رہا، جو نسبتاً زیادہ ہے۔

سالانہ بنیادوں پر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.48 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 11.79 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا اثر ملک بھر میں محسوس کیا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کی تشویش

ماہرینِ معیشت کے مطابق مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کر سکتا ہے اور روزمرہ اخراجات میں مزید بوجھ کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے استحکام اور معاشی بہتری کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں