پتوکی: وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے لیسکو ملازمین پر لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد، ٹرانسفارمر کی مرمت کا ہائی پروفائل تنازعہ اب ایک باقاعدہ فوجداری مقدمے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لاہور الیکٹرک supply کمپنی (لیسکو) نے ضلع قصور کے علاقے پتوکی میں سرکاری بجلی کے ٹرانسفارمر کے ساتھ غیر قانونی چھیڑ چھاڑ اور غیر مجاز مرمت کے الزام میں ایک مقامی مکینک کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔
خواجہ آصف کے لیسکو پر کرپشن کے الزامات
یہ پورا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب وفاقی وزیر خواجہ آصف نے عوامی سطح پر لیسکو حکام کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے ایک گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر جل گیا تھا، جس کی مرمت کے لیے لیسکو ملازمین نے مقامی لوگوں سے چندے کی صورت میں 80,000 روپے نقد وصول کیے۔
وزیر دفاع کا دعویٰ تھا کہ یہ رقم بغیر کسی سرکاری رسید کے براہِ راست وصول کی گئی، جس پر انہوں نے محکمے میں شفافیت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ ان الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر پاور سیکٹر میں جاری مبینہ بدعنوانی اور غیر سرکاری ادائیگیوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی۔
لیسکو کی مدعیت میں مکینک کے خلاف ایف آئی آر
وزیر دفاع کے الزامات کے اگلے ہی دن، لیسکو پتوکی رورل سب ڈویژن کے اسسٹنٹ منیجر آپریشنز، ابرار الرحمان کی مدعیت میں تھانہ صدر پتوکی میں ایک مقامی ٹرانسفارمر مکینک محمد شبیر کے خلاف سیکشن 462M کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق:
لیسکو حکام کو اطلاع ملی کہ ڈھولن چک نمبر 27 میں نصب 200 KVA کا سرکاری ٹرانسفارمر محکمے کی اجازت کے بغیر اتارا گیا ہے۔
مقامی مکینک محمد شبیر نے گاؤں والوں کی درخواست پر ٹرانسفارمر کو اتارا، اس کی غیر مجاز مرمت کی اور دوبارہ نصب کر دیا۔
لیسکو کا الزام ہے کہ مرمت کے دوران ٹرانسفارمر میں ضرورت سے کم تانبا (Copper) استعمال کیا گیا، جس سے سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچا۔
محکمانہ نقصان کا تخمینہ: لیسکو حکام کا دعویٰ ہے کہ اس غیر قانونی چھیڑ چھاڑ اور ناقص مرمت کی وجہ سے قومی خزانے اور محکمے کو تقریباً 470,000 روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کی وصولی ملزم سے کی جانی چاہیے۔
پولیس تفتیش اور قانونی پوزیشن
پتوکی صدر پولیس نے لیسکو کی تحریری شکایت پر مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر decay ہے۔ پولیس انکوائری میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آیا ٹرانسفارمر واقعی محکمانہ اجازت کے بغیر ہٹایا گیا تھا، مرمت میں کیا تبدیلیاں کی گئیں اور کیا لیسکو کے 4 لاکھ 70 ہزار روپے کے نقصان کے دعوے میں سچائی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت یہ معاملہ شدید ترین تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور جب تک عدالت قانون کے مناسب عمل کے ذریعے مجرمانہ ذمہ داری کا تعین نہیں کر دیتی، تب تک ملزم کو قانوناً بے قصور تصور کیا جائے گا۔
