لاہور میں روڈ ریج واقعہ نے سنگین رخ اختیار کر لیا
لاہور: ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) لاہور میں پیش آنے والے ایک روڈ ریج واقعے نے اس وقت سنگین صورت اختیار کر لی جب ٹریفک تنازعہ مبینہ طور پر تشدد میں تبدیل ہو گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انٹیلی جنس افسر سمیت تین افراد پر حملے کے الزام میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ٹریفک تنازعہ سے شروع ہونے والا واقعہ
پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ لاہور کے ڈیفنس بی ایریا میں پیش آیا، جہاں ایک لگژری گاڑی مبینہ طور پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ دیگر شہریوں نے ہارن اور ہیڈلائٹس کے ذریعے گاڑی کے ڈرائیور کو راستہ دینے کا اشارہ کیا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔

مبینہ تشدد اور حملے کے الزامات
عینی شاہدین کے مطابق معاملہ چند ہی لمحوں میں شدت اختیار کر گیا اور لگژری گاڑی میں سوار افراد نے مبینہ طور پر تین شہریوں پر حملہ کر دیا۔ متاثرین میں ایک ریاستی ادارے سے وابستہ انٹیلی جنس افسر بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے لاٹھیوں، برقی جھٹکے دینے والے آلات اور دیگر اشیاء کا استعمال کیا، جس کے باعث سڑک پر خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی اور ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔
ایف آئی آر میں سنگین دفعات شامل
پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر مختصر وقت کے لیے غیر قانونی طور پر روکے رکھنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ویڈیو وائرل ہونے پر عوامی ردعمل
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ صارفین نے قانون کی عملداری، شہری تحفظ اور سڑکوں پر بڑھتے ہوئے پرتشدد رویوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
پولیس تحقیقات جاری
پولیس حکام کے مطابق مقدمہ حملہ، غیر قانونی قید اور مجرمانہ دھمکیوں سمیت مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے جبکہ نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان میں لاہور کے ایک معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والا نوجوان بھی شامل ہے۔
قانون کے مطابق کارروائی کی یقین دہانی
پولیس حکام نے کہا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کے سماجی یا مالی اثر و رسوخ کو تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔
