سابق آرمی چیف کی عمران خان سے جیل میں ملاقات کی خبریں بالکل جھوٹ ہیں: علیمہ خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق آرمی چیف نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے ان رپورٹس کو “مکمل طور پر جعلی اور من گھڑت” قرار دیا ہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے خبر کی تردید
علیمہ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ اس مبینہ ملاقات کے حوالے سے پھیلائے جانے والے تمام دعوے بالکل بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس خبر کی تصدیق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے بھی کی گئی، جنہوں نے واضح طور پر اس خبر کے “مکمل طور پر جعلی” ہونے کی تصدیق کی ہے۔

عمران خان کی جیل میں ‘تنہائی’ اور طبی نگہداشت پر تشویش
انہوں نے ان افواہوں کو ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی جھوٹی خبریں صرف اس لیے پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کی توجہ جیل میں عمران خان کو درپیش سخت تنہائی اور نامساعد حالات سے ہٹائی جا سکے۔ علیمہ خان نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ:

پی ٹی آئی کے بانی کو ان کی آنکھوں کی تکلیف کے لیے مناسب طبی سہولیات اور نگہداشت فراہم نہیں کی جا رہی۔

انہیں لندن میں مقیم ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے فون پر بات چیت کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

گزشتہ کئی ماہ سے ان سے کتابیں پڑھنے اور ٹیلی ویژن دیکھنے کی بنیادی رسائی بھی چھین لی گئی ہے۔

سابق وزیر اعظم کی بیرونی دنیا سے دوری: علیمہ خان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران عمران خان کو بیرونی دنیا سے مکمل طور پر منقطع رکھا گیا ہے، اور صرف عدالتی حکم کے تحت ان کے وکلاء کو دو بار ملاقات کا موقع ملا ہے۔

قانونی حقوق اور ملاقاتوں پر پابندیاں
ان کے مطابق، عدالت کے فل بنچ کا واضح حکم موجود ہے جو ہر ہفتے 18 ملاقاتوں کی اجازت دیتا ہے۔ اس شیڈول کے تحت منگل کے روز خاندان کے 6 افراد اور 6 وکلاء، جبکہ جمعرات کو 6 فریقین کی ملاقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ وہ قانونی حقوق ہیں جن کی ضمانت پاکستانی قانون اور بین الاقوامی قوانین کے تحت دی گئی ہے، لیکن ان پر عمل نہیں ہو رہا۔

مقدمات اور اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کا پسِ منظر
یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور وہ متعدد مقدمات میں سزائیں کاٹ رہے ہیں، جن میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں 14 سال اور توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید کی سزا شامل ہے۔ رواں سال 24 جنوری کو انہیں پمز (PIMS) ہسپتال منتقل کر کے ان کا طبی معائنہ بھی کیا گیا تھا۔

دوسری جانب، پی ٹی آئی کی طرف سے عدالت کی مقرر کردہ تاریخوں پر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنوں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ علیمہ خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت پارٹی رہنماؤں نے ان پرامن اجتماعات میں خلل ڈالنے اور ایک احتجاج کے دوران فائرنگ جیسے واقعات کا الزام بھی انتظامیہ پر عائد کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں