اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا اسلام آباد ایئرپورٹ روڈ کی بندش کے دوران پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ شدید مکالمہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے راستوں کی بندش کے باعث عام شہریوں اور مسافروں کو ہونے والی شدید پریشانی پر پولیس انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
عوام کو کیوں عذاب دیتے ہو؟ اسد قیصر کا پولیس سے سوال
ایئرپورٹ روڈ پر تعینات پنجاب پولیس کے افسران اور اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آپ لوگوں نے یہ اہم ترین شاہراہ ہماری وجہ سے بلاک کی ہے۔ انہوں نے پولیس کو متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا، “اگر مسئلہ ہمارے آنے سے ہے تو لوگوں کو کیوں عذاب دیتے ہو؟ ہم سائیڈ پر کھڑے ہو جاتے ہیں، آپ بس ہمیں صاف بتا دیں کہ آپ نے ہمیں آگے نہیں جانے دینا۔”
سابق اسپیکر کا موقف: اسد قیصر نے پولیس اہلکاروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ناکہ بندی کی وجہ سے عام لوگوں اور فلائٹ پکڑنے والے مسافروں کو سخت تکلیف کا سامنا ہے۔ لوگوں کو تکلیف نہ دیں اور انہیں جانے دیں، ہم تو ایسی حراستوں اور سختیوں کے ویسے ہی عادی ہیں۔
اسکردو فلائٹ کی روانگی تک پولیس حراست
ذرائع کے مطابق، اس تکرار اور روڈ بلاک کے واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما کو اپنی نگرانی میں لے لیا۔ اسد قیصر کو اسکردو جانے والی فلائٹ کی روانگی کا وقت مکمل ہونے تک پولیس کی حراست میں رکھا گیا، اور جہاز کی روانگی کے وقت ہی انہیں وہاں سے جانے کی اجازت دی گئی۔
