ایران اور امریکہ میں تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا؟ ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

واشنگٹن سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ دیرپا امن قائم کرنے کی کوششیں کامیابی کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، معاہدے کا مسودہ تقریبًا مکمل ہو چکا ہے اور اب صرف متعلقہ ممالک کی حتمی توثیق کا انتظار ہے۔

اوول آفس سے عالمی رہنماؤں کو اہم کالز
اس تاریخی پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے امریکی صدر نے اوول آفس سے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے اہم ترین ممالک کے سربراہان سے ٹیلی فون پر رابطے کیے۔ ان رابطوں کا مقصد خطے کی مجموعی صورتحال اور مجوزہ امن فریم ورک پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا۔

ان ٹیلی فونک رابطوں میں درج ذیل ممالک کے قائدین شامل تھے:

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات

پاکستان اور ترکی

قطر، مصر، اردن اور بحرین

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بات چیت کا محور ایک “مفاہمت کی یادداشت” ہے جو خطے میں امن کی ضامن بنے گی۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی الگ گفتگو کو بھی مثبت قرار دیا۔

بیک چینل ڈپلومیسی: پاکستان کا کلیدی کردار
امریکی میڈیا کی رپورٹس میں یہ حیران کن انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے میں پاکستان نے انتہائی اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے اس پورے معاملے میں پسِ پردہ متحرک کردار اپنایا۔ انہوں نے امریکی، ایرانی اور خلیجی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے اور حال ہی میں ایران کا دورہ بھی کیا، جس سے تعطل کا شکار بات چیت کو آگے بڑھانے میں بڑی مدد ملی۔ امریکی مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی اس بیک چینل ڈپلومیسی کے بغیر دونوں فریقین کو میز پر لانا ممکن نہ تھا۔

باضابطہ اعلان کب متوقع ہے؟
صدر ٹرمپ کے مطابق، اگرچہ معاہدے کی آخری تفصیلات پر اب بھی غور کیا جا رہا ہے، لیکن جیسے ہی تمام ممالک کی طرف سے حتمی منظوری مل جائے گی، اس امن معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں