یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے کی خبریں جھوٹ ہیں، جوہری معاملہ مذاکرات کا حصہ نہیں: ایران کا بڑا اعلان

تہران: ایک طرف جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی خبروں سے دنیا بھر میں امید کی کرن جاگی ہے، تو دوسری طرف جوہری پروگرام سے متعلق افواہوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تہران نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

جوہری مراعات کی رپورٹیں ‘مکمل طور پر غلط’ ہیں: تہران
ایرانی حکام نے ان میڈیا رپورٹس کو “مکمل طور پر غلط” اور بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تہران نے مجوزہ فریم ورک کے تحت اگلے 10 سالوں کے لیے یورینیم کی افزودگی کو 3.6 فیصد تک محدود کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، موجودہ سفارتی کوششوں کا ایجنڈا جوہری پروگرام ہے ہی نہیں۔ اس وقت تمام تر توجہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے، لبنان جیسے تنازعات والے علاقوں میں امن قائم کرنے اور سمندری تجارتی راستوں کو بحال کرنے پر مرکوز ہے۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ‘سرخ لکیر’
ایران کی اعلیٰ قیادت نے یورینیم کی پالیسی پر اپنی پوزیشن بالکل واضح کر دی ہے۔

کمپنی لیڈر کا مؤقف: آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی معاہدہ ہو، یورینیم ملک کے اندر ہی رہے گا۔

وزارتِ خارجہ کی وضاحت: ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران اس مرحلے پر دانستہ طور پر جوہری معاملات پر گفتگو سے گریز کر رہا ہے، اور اس حساس موضوع پر بعد میں الگ سے منظم مذاکرات کیے جائیں گے۔

ایران کی دو بڑی تجاویز: متضاد رپورٹس کے مطابق، ایران نے پاکستان کی ثالثی میں جاری اس عمل کے دوران دو اہم شرائط سامنے رکھی ہیں؛ پہلی یہ کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکی مالی معاوضے سے جوڑا جائے، اور دوسری یہ کہ کسی بھی حتمی معاہدے سے پہلے ایران پر عائد پابندیاں ختم کر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔

‘اسلام آباد مذاکرات’ کا دوسرا دور اور پاکستان کا کلیدی کردار
اس پورے سفارتی منظر نامے میں پاکستان ایک انتہائی اہم اور بااثر سہولت کار کے طور پر سامنے aaya ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اشارہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے “اسلام آباد مذاکرات” کا دوسرا دور بہت جلد شروع ہونے والا ہے۔

پاکستانی سفارت کاری نے پسِ پردہ رہ کر ایک ایسا نازک مسودہ تیار کرنے میں مدد کی ہے جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ اور بحری راستوں پر چھائے خطرات کے بادل چھٹ سکیں۔ عالمی مبصرین اس “بیک چینل ڈپلومیسی” میں اسلام آباد کے خاموش مگر کلیدی کردار کو سراہ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں