روشن سندھ پروگرام میں 5 ارب روپے سے زائد کرپشن کا انکشاف، نیب نے تحقیقات تیز کر دیں

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے روشن سندھ پروگرام میں مبینہ بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس منصوبے میں 5 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، تحقیقات میں جعلی امپورٹ ڈیکلریشنز، فرضی دستاویزات اور اوور انوائسنگ کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے فنڈز کو مبینہ طور پر بیرون ملک منتقل کیا گیا۔

مزید انکشافات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان رقوم کو غیر ملکی جائیدادوں، خاص طور پر دبئی میں لگژری پراپرٹیز خریدنے کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے۔ نیب اس پہلو کا بھی تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔

تحقیقات کے دوران متعدد افراد کو طلب کیا گیا ہے، جن میں محفوظ قاضی، مدثر قاضی، جعفر خواجہ اور عون خواجہ شامل ہیں۔ ایک مشتبہ شخص کا بیان پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر افراد کو بھی پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

نیب حکام کے مطابق، کیس کی نوعیت ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے اور اس میں مزید بااثر شخصیات کے ملوث ہونے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ تفتیش کار مختلف مالی ریکارڈز اور بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

حکام نے عندیہ دیا ہے کہ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھیں گی، مزید اہم انکشافات اور ممکنہ گرفتاریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ کیس ملک میں ہونے والی بڑی کرپشن تحقیقات میں شامل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں