امریکہ کا ایران پر دوبارہ حملے کا انتباہ
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ امریکی افواج ایران کے خلاف کسی بھی لمحے نئی فوجی کارروائی کا آغاز کر سکتی ہیں۔
ویسٹ پام بیچ سے میامی روانہ ہونے سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے اس بات کا واضح اشارہ دیا کہ اگرچہ وہ تہران کی جانب سے ملنے والی تازہ ترین سفارتی پیشکش کا جائزہ لیں گے، تاہم وہ اسے ابتدائی طور پر ہی ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں۔ اس سخت موقف نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کی ممکنہ واپسی کے خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔
پاکستان کی ثالثی اور ایران کی امن تجویز
یہ امریکی ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے سفارتی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے پاکستان کے ذریعے ایک امن تجویز واشنگٹن کو بھیجی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران نے اپنی طرف سے تنازعات کے خاتمے کی کوشش کر لی ہے اور اب گیند مکمل طور پر امریکہ کے کورٹ میں ہے۔
تاہم، صدر ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک سخت پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ ایران نے دنیا کے خلاف اپنی دہائیوں پر محیط کارروائیوں کی “بھاری قیمت ابھی تک ادا نہیں کی”۔
مسترد کی جانے والی تجویز میں کیا تھا؟
ذرائع کے مطابق، ایران کی جس تجویز کو امریکی صدر مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس میں آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے میں جہاز رانی کی بحالی، ایران پر عائد امریکی ناکہ بندی کے خاتمے، اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کو آئندہ کسی مرحلے تک موخر کرنے جیسی شرائط شامل تھیں۔
ان تجاویز کے باوجود واشنگٹن کا عدم اطمینان اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے بند ہو رہے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ایرانی جہاز رانی کے خلاف امریکی بحریہ کے ایکشن کو سمندری قزاقی سے تشبیہ دی گئی۔
ایران کا سخت ردعمل اور عالمی برادری سے اپیل
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی وار کیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو کسی صورت معمول نہیں بننے دینا چاہیے، اور تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ان ایکشنز کی فوری اور سخت مذمت کی جانی چاہیے۔
ان تمام تر کشیدگیوں کے سائے میں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قوم کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ایران کی دفاعی لچک کو اس کے تعلیمی و تربیتی نظام سے منسوب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں ایرانی افواج کی ثابت قدمی اور طاقت دراصل ان اساتذہ کی مرہون منت ہے جنہوں نے قوم کے نوجوانوں کے دلوں میں ایمان، حب الوطنی اور قربانی کا جذبہ بیدار کیا۔
—
