فیکٹ چیک: ٹرمپ کا پاکستان آنے کا کوئی منصوبہ نہیں، امریکہ-ایران مذاکرات کا اگلا مرحلہ متوقع

اسلام آباد: ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان آنے کی گردش کرنے والی خبروں کی باضابطہ طور پر تردید کر دی گئی ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تیاری جاری ہے۔

حکام کے مطابق، امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیمیں آئندہ چند دنوں میں یا اگلے ہفتے کے آغاز پر دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات کر سکتی ہیں، تاہم حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔ اس عمل کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔

پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکام نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے کہ ٹرمپ مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔

اسلام آباد میں موجود ایرانی سفارتخانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی شیڈول کی تصدیق نہیں کی گئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق، آنے والا ویک اینڈ ممکنہ وقت کے طور پر زیر غور ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اور دونوں فریقوں کی جانب سے بات چیت جاری رکھنے کے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کو دہائیوں بعد دونوں ممالک کے درمیان اہم براہ راست رابطہ قرار دیا گیا۔ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی محمد باقر قالیباف نے کی۔

ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔ اگرچہ اس دور میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم دونوں فریقوں نے سفارتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ماہرین کے مطابق، پاکستان اس وقت ایک اہم سہولت کار (Facilitator) کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور امکان ہے کہ مستقبل میں بھی اہم ملاقاتوں کے لیے اسلام آباد کو ترجیح دی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں