گرمی کا 80 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا: یورپ میں ہیٹ ویو سے درجنوں ہلاک

گرمی کا 80 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا: یورپ میں ہولناک ہیٹ ویو سے درجنوں ہلاک، لاکھوں صارفین بجلی سے محروم

پیرس / لندن: فرانس کے تاریک گھروں سے لے کر اسپین کے کھچا کھچ بھرے ساحلوں اور لندن کی تپتی سڑکوں تک، لاکھوں لوگ یورپ میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے ایک اور ہولناک دن کا سامنا کر رہے ہیں۔ موسم گرما کی یہ شدید گرمی اب ایک مہلک ترین بحران میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کے باعث پورے براعظم میں درجنوں افراد ہلاک، ہزاروں گھرانے بجلی سے محروم اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی آب و ہوا کی تبدیلی (Climate Change) اور ماحولیاتی حالات کے خطرناک امتزاج نے اس شدید موسم کو ہوا دی ہے، جس نے پورے یورپی براعظم پر گرم ہوا کو جکڑ لیا ہے۔ فرانس میں گرمی نے منگل کو ایک نیا تاریخی سنگ میل عبور کیا جب درجہ حرارت 29.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو گزشتہ 80 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس شدید درجہ حرارت نے وہاں کے پاور انفراسٹرکچر کی کمزوری کو بھی بے نقاب کر دیا ہے؛ فینسٹیر (Finistere) کے شمال مغربی محکمے میں ٹرانسفارمر کی خرابی کے باعث 68,000 گھرانے تاریکی میں ڈوب گئے، جبکہ مجموعی طور پر فرانس میں 106,000 سے زائد صارفین بجلی کی بندش سے متاثر ہوئے۔ جھیلوں اور دریاؤں میں پناہ لینے والے کم از کم 48 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ گاڑی میں بند رہنے کے باعث 2 کمسن بچے بھی دم توڑ گئے۔ فرانس کی 90 فیصد آبادی اس وقت شدید ترین موسم کی زد میں ہے جہاں درجہ حرارت 39°C سے 41°C تک پہنچنے کی پیشگوئی ہے۔

دوسری جانب، برطانیہ کے میٹ آفس نے تاریخ میں صرف دوسری مرتبہ وسطی، جنوبی انگلینڈ اور ویلز کے لیے ‘ریڈ ہیٹ ہیلتھ وارننگ’ جاری کر دی ہے۔ لندن میں درجہ حرارت 39°C تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث اسکول بند، ریل سروسز معطل اور ‘یوروسٹار’ نے لندن اور پیرس کے مابین کئی ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔ مزید جنوب میں، اٹلی کی وزارتِ صحت نے روم اور میلان سمیت 16 بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ نافذ کر دیا ہے۔ اسپین میں بھی پارہ 40°C سے اوپر چلا گیا ہے جہاں ہیٹ اسٹروک سے دو بزرگ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ نیدر لینڈز نے کوڈ اورنج اور بیلجیئم نے بھی پورے ملک کو اورنج الرٹ پر رکھا ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ جسے کبھی غیر معمولی سمجھا جاتا تھا، وہ اب یورپ کا نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ یورپ جیسے ترقی یافتہ خطے میں گرمی کی لہر سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور پاور بریک ڈاؤن کیا عالمی موسمیاتی تبدیلی کا ایک بڑا خطرہ ہے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں